ہم تحمل اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہیں: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

’’مشرق وسطی میں بڑھتا ہوا تشدد مسئلہ فلسطین کے حل کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں بڑھتا ہوا تشدد مسئلہ فلسطین کے حل کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

ہفتے کو فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل پر پانچ ہزار راکٹ فائر کرنے اور غزہ پر اسرائیلی بمباری میں درجنوں اموات ہوئی ہیں۔

پاکستان کے نگران وزیر اعظم کاکٹر نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد سے دل شکستہ ہے، جو مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہم تحمل اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔

مشرق وسطی میں پائیدار امن دو ریاستی حل میں مضمر ہے جس میں ایک قابل عمل، متصل، خود مختار فلسطینی ریاست ہو، جس کی بنیاد 1967 سے قبل کی سرحدوں پر رکھی گئی ہو، جس کے مرکز میں القدس الشریف ہو۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورت حال میں انسانی جانوں کی قیمت کے بارے میں فکرمند ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہم مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورت حال اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم بڑھتی ہوئی صورت حال کی انسانی قیمت کے بارے میں فکرمند ہیں۔‘

’پاکستان مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کلید کے طور پر دو ریاستی حل کی مسلسل وکالت کرتا رہا ہے جس میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا منصفانہ، جامع اور دیرپا حل ہو۔

’1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک قابل عمل، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘

بیان کے مطابق: ’ہم بین الاقوامی برادری پر زور دیتے ہیں کہ وہ جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے متحد ہو۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں