برفانی تودہ گرنے سے 4 افراد ہلاک، پاکستانی کوہ پیمائوں نے شیشاپنگما کی چڑھائی چھوڑ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی کے فیس بک اکاؤنٹ نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے اور سرباز خان نے پہاڑ شیشاپنگما کی چوٹی کو سر کرنے کی کوشش اس وقت ترک دی جب اس کے قریب برفانی تودہ گرنے سے چار افراد ہلاک ہو گئے۔

تبت میں سطح سمندر سے 8,027 میٹر بلندی پر واقع دنیا کے 14ویں بلند ترین پہاڑ شیشاپنگما پر ایک بڑے برفانی تودے نے اوپر جانے کے راستے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی خاتون کوہ پیما اینا گٹو اور ان کے گائیڈ منگمار شیرپا ہفتے کی دوپہر برفانی تودہ گرنے سے ہلاک ہو گئے۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور کوہ پیما جینا میری اور ان کے گائیڈ ٹینجین (لاما) شیرپا کی اس واقعے کے بعد لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم کیانی کے فیس بک اکاؤنٹ سے ایک بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ جینا میری کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔

کیانی کے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک طویل بیان میں کہا گیا کہ "ہم انتہائی صدمے کے ساتھ خبر دیتے ہیں کہ شیشاپنگما کی چوٹی کے قریب 2 برفانی تودے گرنے سے 4 کوہ پیماؤں کی موت واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے نائلہ اور سرباز کا مشن ختم ہو گیا ہے۔"

پوسٹ میں مزید کہا گیا، "وہ دونوں اب کیمپ 1 میں واپس آچکے ہیں۔ برفانی تودے سے اپنے ہی دوستوں جینا میری اور اینا گٹو کی جانیں جاتے ہوئے دیکھنے کے بعد وہ بہت لرزیدہ اور صدمے کا شکار ہیں۔"

کیانی اور خان جمعہ 6 اکتوبر کو شیشاپنگما کے لیے روانہ ہوئے۔ کامیابی سے چوٹی سر کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ خان دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزاری چوٹیوں کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما بن جاتے اور کیانی اپنی 11ویں چوٹی کو سر کرنے والی پہلی خاتون بن جاتیں۔

ہفتے کی صبح برفانی تودہ گرنے سے پہلے کیانی کے ایکس اکاؤنٹ نے بتایا کہ وہ اور خان چوٹی سے "چند سو میٹر دور" تھے۔

ان کے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا تھا۔ "شیشاپنگما پر سبز پرچموں کے ساتھ ہمارے ہیروز کے لیے دعائیں!"

پیر کو کیانی اور خان سطح سمندر سے 8,188 میٹر بلند دنیا کے چھٹے بلند ترین پہاڑ چو اویو کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی کوہ پیما بن گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں