صرف ایک روپیہ ماہانہ فیس، غریب پاکستانی بچوں کے لیے سستی تعلیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایک پاکستانی پرائمری اسکول ایک روپیہ ماہانہ فیس کے عوض تعلیم کا موقع فراہم کرنے کے لیے غریب گھرانوں کے طلباء کو ہدف بنا رہا ہے، اس امید پر کہ وہ مزید تعلیم کے لیے ایک بنیاد بنا سکیں اور اپنے خاندانوں کو غربت سے بچنے میں مدد کر سکیں۔

یونیسیف کے مطابق اسکول نہ جانے والے بچوں کی دنیا میں دوسری بڑی تعداد پاکستان میں ہے جس کے اندازے کے مطابق 5-16 سال کی عمر کے 22.8 ملین بچے اسکول نہیں جاتے جو اس عمر کے گروپ کی کل آبادی کا 44 فیصد ہیں۔

47 سالہ زاہد کاظمی شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں 20,000 سے زیادہ آبادی والے اپنے آبائی شہر بریلہ میں اپنے اسکول باب العلم کے ساتھ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے مشن پر ہیں۔

اس ادارے کا آغاز 2017 میں ایک کے جی سکول کے طور پر ہوا تھا جس میں 50 بچے تھے اور اب یہ ایک پرائمری اسکول ہے جس میں 200 سے زائد طلباء داخل ہیں۔ ایک روپیہ ماہانہ فیس کے علاوہ اسکول مفت کتابیں، اسٹیشنری، اسکول کے بستے اور یونیفارم فراہم کرتا ہے اور نقل و حمل کے اخراجات کو بھی پورا کرتا ہے۔

ایک خوشحال مقامی خاندان سے تعلق رکھنے والے کاظمی نے بریلہ کی مرکزی شاہراہ کے ساتھ 900 مربع گز پر محیط پانچ کمروں کے اسکول میں ایک انٹرویو میں کہا، "ہمارا ہدف ان بچوں کو اسکول میں لانا ہے جو وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔"

"ہماری بنیادی توجہ اس پر ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں وہ بچے شامل ہیں جن کے والدین کی آمدنی ایک مخصوص سطح سے کم ہے۔ وہ جنہیں گلیوں میں پھرنے والے بچے کہا جاتا ہے، ہم انہیں اسکول میں داخل کر رہے ہیں۔"

"ہمارے لوگوں کی اکثریت کے اتنے محدود وسائل ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس لیے میں نے اس اسکول کے ذریعے پسماندہ بچوں کو تعلیم دینے میں اپنا چھوٹا سا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔"

کاظمی نے کہا کہ سماجی و ثقافتی وجوہات اور غربت کی وجہ سے ابتدائی طور پر علاقے کے والدین کو بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے راضی کرنا ایک جدوجہد تھی۔ کئی لوگوں کو خدشہ تھا کہ ایک روپیہ فیس بعد میں بڑھ جائے گی۔

اسٹاف کے 12 ممبران کی ایک ٹیم اسکول چلاتی ہے جس میں اساتذہ، ایک خاتون مددگار اور ایک چوکیدار شامل ہیں جو ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں۔ کاظمی کے دوستوں کا ایک کلیدی گروپ اسکول کے اخراجات برداشت کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے جن میں بریلہ اور گرد و پیش کے دیہات کے طلباء کے لیے نقل و حمل کی ادائیگی کا خرچ بھی شامل ہے۔

کاظمی نے کہا، "ہم نے بچوں کے ساتھ ایک اور عہد کیا تھا کہ ہم انہیں کھانا فراہم کریں گے لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے۔

اسکول کی انتظامیہ ہر سال ایک سخت آزمائشی عمل سے گزرتی ہے تاکہ والدین کو بچوں کو داخل کرنے کے لیے راضی کیا اور اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ صرف مستحق خاندانوں کو ہی داخلہ دیا جائے۔

باب العلم کی پرنسپل زوبیہ مبین نے کہا کہ ہم یہاں بچوں کو مکمل تحقیق کے بعد داخلہ دیتے ہیں کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔

"والدین کے لیے [ہم سے رابطہ کرنا] آسان ہے۔ اسکول اسی علاقے میں ہے اس لیے والدین یہاں بآسانی آ سکتے ہیں۔"

ابتدائی طور پر اسکول نرسری میں ہر سال 20 سے 25 طلباء کو داخل کرتا تھا لیکن پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی جو مئی میں ریکارڈ 38 فیصد تک پہنچ گئی، کے درمیان معاشی مشکلات کے باعث گذشتہ دو سالوں میں اس تعداد کو دوگنا کرنا پڑا۔

کاظمی نے کہا، "پچھلے سال ہم نے 50 سے زیادہ بچوں کو نرسری میں داخل کیا تھا۔"

علاقے کے غریب خاندانوں نے اسکول کو ایک "نعمت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پرائیویٹ حتیٰ کہ سرکاری اسکولوں کے اخراجات تک برداشت کرنے سے قاصر ہیں جہاں کوئی فیس نہیں لیکن والدین کو نقل و حمل، اسٹیشنری اور یونیفارم جیسے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

باب العلم اسکول میں تین طلباء کی والدہ عائشہ بی بی نے عرب نیوز کو بتایا، "اول یہ کہ یہ [اسکول] ہمارے گھر کے قریب ہے، دوسرا ہمارے پاس اپنے بچوں کو کسی نجی اسکول میں داخل کرانے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ سرکاری اسکولوں میں وہ کتابیں [مفت] دیتے ہیں لیکن آپ کو دوسری اسٹیشنری تو خریدنی پڑتی ہے۔ وہ [باب العلم] کتابیں، نوٹ بکس، بیگ فراہم کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر روزانہ پنسل، شارپنر اور ایریزر بھی دیتے ہیں۔"

انتظامیہ نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ ایک قدامت پسند علاقے میں جہاں زیادہ تر والدین بیٹیوں کو اسکول بھیجنے میں ہچکچاتے ہیں، وہاں ان کے سکول میں اندراج شدہ طلباء کی کم از کم نصف تعداد لڑکیوں پر مشتمل ہو۔

بی بی نے کہا جن کی بیٹی باب العلم میں پڑھتی ہے، "آج کی بیٹی کل کی ماں ہے۔ اگر میں اس کی اچھی پرورش کروں گی تو یہ بھی اپنے گھر کی بہتر نگہداشت کرے گی۔ اگر وہ آج پڑھے تو کل بہتر زندگی گزارے گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں