قومی ادارہ صحت کی نیپاہ وائرس سے متعلق ایڈوائزری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت میں نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے وفاقی وزیر صحت کی ہدایات پر ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ ابھی تک پاکستان میں نیپاہ وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کے لیے کم خطرہ والی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ وائرس چمگادڑوں اور خنزیروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ ماضی میں بنگلہ دیش، ملائیشیا، سنگاپور اور بھارت میں نیپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور بارڈر ہیلتھ سروسز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیپاہ وائرس انسانوں اور جانوروں میں یکساں طور پر پھیلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر ہیلتھ سروسز کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نیپاہ وائرس کیا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جانوروں سے پھیلنے والا نیپاہ وائرس انسانوں میں سانس کی بیماریوں اور دماغ پر حملے کا موجب ہو سکتا ہے۔ اسے ملائیشیا میں پہلی بار 1999 میں دریافت کیا گیا تھا۔ نیپاہ وائرس کی کوئی ویکسین نہیں ہے جبکہ اس میں مبتلا ہونے والے 40 سے 75 فی صد افراد جان گنوا دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں