زرمبادلہ کی غیر قانونی مارکیٹ کے خلاف مہم سے 900 ملین ڈالر کی بہتری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کی بےقاعدہ مارکیٹ میں غیر قانونی زرمبادلہ کی تجارت پر جاری پابندی سے اب تک اوپن مارکیٹ میں 900 ملین ڈالر تک کا سرمایہ باضابطہ طریقے سے بینکوں میں جمع کرایا گیا ہے۔

کرنسی ڈیلرز اور فارن ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن نے گذشتہ روز بتایا کہ عسکری اداروں کے احکامات کی روشنی میں اٹھائے گئے اقدامات سے ستمبر سے اب تک پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 6.1 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جو اگست میں روپے کی قدر میں ہونے والی تنزلی کا اثر زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ اس طرح گزشتہ ماہ پاکستانی کرنسی قدری میں نمایاں بہتری کے ساتھ دنیا بھر میں بہترین کارکردگی کی حامل قرار پائی ہے۔

ستمبر کے پہلے ہفتے میں روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 307.1 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا لیکن جب سے ملک کے مالیاتی ریگولیٹر اور سیکیورٹی ایجنسیوں نے بلیک مارکیٹ کے خلاف مہم چلائی ہے روپے کی قدر میں میں تیزی سے بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔

کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بلیک مارکیٹ آپریٹرز اور غیر رسمی مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں دسیوں ملین ڈالر پاکستان کی انٹربینک اور ریگولیٹڈ اوپن مارکیٹوں میں واپس آچکے ہیں۔

فارن ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے گزشتہ دنوں میڈیا کو بتایا کہ ستمبر میں کریک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے مطابق 800 سے 900 ملین ڈالر بینکوں میں جمع کرائے گئے ہیں۔ کریک ڈاؤن کے نتیجہ میں ایکسچینج کمپنیوں کا یومیہ اوسط تجارتی حجم 5-7 ملین ڈالر سے بڑھ کر 50 ملین ڈالر یعنی کم از کم دس گنا بڑھ گیا ہے۔

پراچہ نے مزید کہاہم بینکوں کو یومیہ 40 ملین ڈالر تک فروخت کر رہے ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی رقوع میں اضافہ بھی بے مثال ہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ ً بینکوں کے ذریعے بھجوائی جانے والی رقوم کے علاوہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں