سپریم کورٹ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ، تمام درخواستیں مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے خلاف دائر 9 درخواستیں مسترد کردیں۔

عدالت عظمیٰ نے بدھ کے روز مقدمے پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو ساڑھے چھ بجے سنایا گیا ۔

فل کورٹ نے کثرت رائے سے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے 15 میں سے 10 ارکان نے پارلیمان میں ہونے والی قانون سازی کو قابل قبول قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس منیب اختر، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس عائشہ ملک نے 10 ججوں کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔

اس سے قبل، سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں آٹھ رکنی بینچ نے اس قانون کے خلاف اس سال اپریل میں حکم امتناعی جاری کیا تھا جو کہ تقریبا چھ ماہ تک برقرار رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں