غزہ تنازع ایک ظالم اور مظلوم کے درمیان جنگ ہے: وزیر اعظم کاکڑ

’اسرائیل ایک ظالم اور غاصب ریاست ہے جبکہ فلسطین ایک مظلوم قوم ہے۔‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ پاکستان کی مسٔلہ فلسطین کے حوالے سے پالیسی تبدیل ہوئی ہے۔’’غزہ میں جاری تنازع ایک ظالم اور مظلوم کے درمیان جنگ ہے۔‘‘

اسلام آباد میں منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ ’اسرائیل ایک ظالم اور غاصب ریاست ہے جبکہ فلسطین ایک مظلوم قوم ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’مسٔلہ فلسطین کے حوالے سے پالیسی ایک تسلسل کا حصہ ہے اور ایسا نہیں ہے کہ نگران حکومت کے دوران مشرق وسطیٰ کے حوالے سے کوئی نئی پالیسی آ گئی ہے۔ ہمارا شروع سے موقف ہے کہ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔‘

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ’دوسری جنگ عظیم کے وقت جرمن یہودی مظلومیت کی کیفیت میں تھے، لیکن جب وہ فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست بنانے کی طرف گئے تو وہ ان کی کیفیت تبدیل ہو گئی اور وہ ظالم کی کیفیت میں آ گئے اور مظلومیت کی کیفیت فلسطینیوں پر آ گئی۔‘

نگران وزیراعظم نے کہا: ’بطور ریاست اور معاشرہ ہماری یہ سوچ ہے کہ اس تنازعے میں سب سے بڑا فریق فلسطین خود ہے جن کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہ ان پر ہے کہ وہ امن کو کیسے موقعہ دیتے ہیں، امن کو وقار کے ساتھ یا غلامی کے ساتھ موقع دیں، یہ ان پر منحصر ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو دہائیوں سے بین الاقوامی سطح پر دو ریاستی حل کا تصور موجود ہے لیکن بدقسمتی سے اسرائیل اس حل سے انکاری ہے جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ خصوصاً فلسطین کا مسٔلہ دن بدن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں