پاکستان میں 200 سے زائد افغان صحافیوں کو ملک بدری کا سامنا

غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، افغانستان واپس بھیجنے کی صورت میں صحافیوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

200 سے زائد افغان صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو پاکستان سے ملک بدری کا سامنا ہے جس کی بنا پر افغان صحافیوں کی ایک تنظیم نے منگل کو پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ انہیں ملک سے بے دخل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

پاکستان-افغان بین الاقوامی صحافی فورم کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد کم از کم 650 میڈیا کارکنان طالبان کے ہاتھوں ظلم و ستم کے خوف سے پاکستان فرار ہو گئے تھے۔ تقریباً 400 صحافی مختلف ممالک بشمول امریکہ، جرمنی اور فرانس جا چکے ہیں لیکن باقی پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سفری دستاویزات کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔

پاکستان کے نگراں وزیرِ داخلہ نے گذشتہ منگل کو اعلان کیا تھا کہ حکومت یکم نومبر سے ملک میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک بدر کر دے گی۔ اگرچہ پاکستان نے کہا ہے کہ یہ کارروائی کسی خاص قومیت کے لوگوں تک محدود نہیں ہوگی لیکن اس اقدام سے پاکستان میں موجود افغان شہریوں کے سب سے زیادہ متأثر ہونے کا امکان ہے۔

ملک بدری کا سامنا کرنے والے افغان صحافیوں کی تنظیم فیڈریشن آف افغان جرنلسٹس ان ایگزایئل کے ترجمان حشمت ویجدانی نے منگل کو عرب نیوز کو بتایا، "افغان صحافیوں کی اکثریت قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوئی لیکن پاکستانی حکام اب ہمارے ویزوں میں توسیع نہیں کر رہے ہیں۔"

"طالبان کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والوں نے بھی ویزوں کے لیے درخواستیں دی ہیں لیکن حکومت ان کی درخواستوں پر غور نہیں کر رہی ہے۔"

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کم از کم 600,000 افغان ہمسایہ ملک پاکستان فرار ہو گئے تھے۔

قبل ازیں بھی پاکستان نے تقریباً 1.5 ملین رجسٹرڈ مہاجرین کی میزبانی کی جو اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی آبادی میں سے ایک ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ دیگر غیر رجسٹرڈ پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔

پاکستان میں افغان صحافی ان ممالک کے ویزوں کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں جو پہلے انہیں ملازمت دیتے تھے اور اکثر یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ پاکستانی پولیس انہیں حراست میں لے لیتی ہے یا رشوت کے چکر میں انہیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دیتی ہے۔ پولیس حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستان میں 200 سے زائد افغان صحافیوں کے لیے گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے کیونکہ ان کے سفری دستاویزات کی میعاد ختم ہو رہی ہے۔

ویجدانی نے کہا کہ "پاکستان میں مقیم افغان صحافیوں کی اکثریت کے کیسز یورپی ممالک میں آبادکاری کے لیے زیرِ سماعت ہیں اس لیے پاکستانی حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔"

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان بھیجے گئے افغان صحافیوں کو یا تو جیل میں ڈال دیا جائے گا یا وہ طالبان کے ہاتھوں قتل ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا، "افغانستان میں میڈیا مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ ہم نے جنگ کے دوران مغربی خبر رساں اداروں کے لیے کام کیا ہے اس لیے طالبان ہمیں اپنا سخت دشمن سمجھتے ہیں۔"

ویجدانی نے کہا کہ افغان صحافی پاکستانی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں اور حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے ویزوں میں توسیع کی جائے جب تک ان کی آبادکاری کی درخواستوں کو حتمی شکل نہیں دے دی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود افغان صحافیوں اور ان کے خاندانوں کو ایک پاکستانی این جی او سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ پریزنرز ایڈ کے ساتھ رجسٹرڈ کیا گیا ہے جو یو این ایچ سی آر کی ایک عملدرآمد پارٹنر این جی او ہے۔

ویجدانی نے کہا، "ہماری ملک بدری کا مطلب واضح طور پر ہمیں قتل کے لیے طالبان کے پاس پھینکنا ہے۔ پاکستان کو یہاں محفوظ اور قانونی قیام کے لیے ہماری درخواستوں پر غور کرنا چاہیے۔"

پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے ان کالز اور پیغامات کا جواب نہیں دیا کہ اس معاملے پر ان کا کیا مؤقف ہے۔

علیحدہ طور پر صحافیوں کی بین الاقوامی فیڈریشن (آئی ایف جے) نے منگل کو پاکستان کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور میڈیا کے متعلقین، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور بین الاقوامی حکومتوں سے کہا کہ وہ جلاوطن افغان صحافیوں کے لیے اپنی حمایت میں اضافہ کریں۔

آئی ایف جے نے ایک بیان میں کہا، "کم از کم 200 افغان صحافی اس وقت پاکستان میں پناہ گزین ہیں جو آزادئ صحافت پر طالبان کے کریک ڈاؤن سے فرار ہونے پر مجبور تھے جن میں خواتین صحافیوں پر سخت پابندیاں، میڈیا ہاؤسز کی بندش اور زبردست سنسرشپ شامل تھی۔"

اگست میں آئی ایف جے اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے افغان صحافیوں کی مدد کے لیے اسلام آباد میں دو یکجہتی مراکز قائم کیے جو ہنگامی رہائش، قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کرتے تھے۔ دو مراکز میں سے ایک خصوصی طور پر خواتین صحافیوں کے لیے ہے۔

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے عرب نیوز کو بتایا، "ہمارے پاس پاکستان میں موجود 256 افغان صحافیوں کا ڈیٹا ہے اور ہم ان کے ملک میں قیام کے لیے حکومت سے رابطے میں ہیں۔"

بٹ نے مزید کہا، "ہم جانتے ہیں کہ اگر ان صحافیوں کو افغانستان ملک بدری کی صورت میں ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گا اس لیے ہم پاکستان میں ان کے قانونی قیام کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں جب تک کہ ان کی تیسرے ممالک میں آباد کاری نہ ہو جائے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں