جی سی سی کے ساتھ تجارت کا ترجیحی معاہدہ حقیقی پیش رفت ہے: انجینئرنگ سیکٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

معاشی سست روی کی وجہ سے پاکستان میں مقامی سطح پر طلب میں کمی کا سامنا کرنے والے انجینئرنگ سیکٹر نے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ تجارت کے ترجیحی معاہدے کو حقیقی پیش رفت قراد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

پاکستان نے عرب ممالک کے طاقتور علاقائی بلاک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے گذشتہ ماہ ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ 2009 کے بعد خلیج تعاون کونسل کا کسی بھی ملک کے ساتھ ایسا پہلا معاہدہ ہے۔

پاکستانی انجینئرنگ شعبے کے نمائندوں نے اس بتدائی معاہدے پر دستخط کو ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیا ہے جو تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے اور مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ میں مستحکم بنیادوں پر جگہ بنانے میں کردار فراہم کرسکے گا۔

آفتاب انجیئرنگ سروسز کے سی ای او سید محمد مسعود اس پیش رفت پر بہت پرامید نظر آتے ہیں۔ اے ای ایس کمپنی کو متحدہ امارات کی سی وی ایس کمپنی نے خرید لیا ہے۔ سید محمد مسعود نے تجارت کے باقاعدہ فریم ورک کی تکمیل کی طرف بڑھنے کو خلیجی ممالک اور پاکستان کے لیے ایک نیک شگون قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آٹو موٹیو انڈسٹری نئے ایف ٹی اے کے تحت مشرق وسطیٰ کی مارکیٹ میں بہتر طریقے سے رسائی حاصل کر سکے گی۔ کیوں کہ ہم آٹوموٹو پرزوں کی برآمد کے مواقع بہتر طریقے سے تلاش کرسکیں گے۔

آپ کسی بھی آٹوموٹو برانڈ کا نام لیں آپ اسے مشرق وسطیٰ کی ذیادہ قوت خرید کی حامل مارکیٹ میں پائیں گے۔ ہم اس آٹو موٹیو مارکیٹ کیلئے ایئر کنڈیشنگ، ہیٹنگ اور وینٹیلیشن کے پرزہ جات کی طلب میں اپنا حصہ ادا کرسکتے ہیں۔ "

پچھلے مہینے، ان کی کمپنی نے پہلی بارمتحدہ امارات کو ہائیڈرولک شیئرنگ اور پنچنگ مشینیں برآمد کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت پر امید ہیں کہ ترجیحی تجارت کے معاہدے کے بعد خلیجی ممالک سے اس طرح کے برآمدی آرڈز میں یقینا اضافہ ہو گا۔

پاکستان کی آٹوموبائل انڈسٹری کای قومی شرح ترقی میں میں 2.8 فیصد اور سالانہ ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے میں 30 ارب روپے کا حصہ ڈالتی ہے۔

مسعود نے کہا، ہم نے پچھلے دو سے تین سالوں کے دوران پاکستان میں آٹو انڈسٹری کے زوال دیکھا ہے اور اسی نے ہمیں اپنے نئے مالکان کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں نئی راہیں تلاش کرنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنی کی پیداواری صلاحیت کے صرف 30 فیصد تک کام کر رہی تھی اور اسے اپنے کاروبار کو توسیع دینے کے بہت سے مواقع ہیں۔

امحسن صدیقی بھی آٹو پارٹس کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم آٹو انڈسٹری کے کے شعبہ میں 2019 سے 2023 تک اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے لیکن موجودہ صنعتی مسائل کی وجہ سے ہماری پیداوار کم ہو کر 30 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔

پاکستان کی آٹو پارٹس سمیت انجینئرنگ کے سامان کی برآمدات رواں مالی سال جولائی اور اگست کے دوران 13 فیصد کم ہو کر 38.3 ملین ڈالر رہ گئی ہیں۔ تاہم نئی مارکیٹ تک رسائی نے کاروبار کی ترقی کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں