شرق اوسطی پاکستانی تارکین وطن کا روشن کھاتوں میں حصہ 40 فیصد ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مشرق وسطیٰ میں مقیم سمندر پار پاکستانیوں کا روشن ایکویٹی انویسٹمنٹ کھاتوں میں حصہ لگ بھگ 40 ہو گیا ہے جن سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری ممکن ہے۔

اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے تحت قائم روشن ڈیجیٹل کھاتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج، سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی، نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ اور بروکریج ہائوسز کے اشتراک سے لسٹیڈ سیکوریٹٰیز میں ایکویٹی انویسمینٹ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل کھاتوں کے ذریعے 6.6 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں سے500 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ایکوٹی کے شعبہ میں کی گئی ہے۔

سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی کے سی ای او بدیع الدین اکبر نے بتایا کہ تقریباً 11,000 کھاتے ایکویٹٰی میں سرمایہ کاری پر مرکوز ہیں جس میں سے اکثریت یعنی 40 فیصد حصہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور خطے کے دیگر ممالک میں رہائش پذیر پاکستانیوں کا ہے۔

اکبر نے بتایا کہ خطے سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کوششوں کے طور پر ویبینار اور روڈ شوز کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ بلند شرح سود کی وجہ سے سرمایہ کاری کی سرگرمیاں سست پڑ گئی تھیں، لیکن طویل مدتی مواقع کی وجہ سے ایکویٹی مارکیٹ توجہ کی مرکز رہتی ہے۔ کیونکہ اس سے سرمایہ کاری کے مقابلہ میں پرکشش آمدنی ممکن ہوتی ہے۔

اکبر کا کہنا تھا کہ ذیادہ شرح سود اور ڈالر کی قدر میں اضافے نے کھاتے داروں کو مزید سرمایہ کاری سے روک دیا تھا، لیکن اب جب کہ روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے، ہمیں امید ہے کہ سرمایہ کار ایکویٹی مارکیٹ میں واپس آئیں گے۔

المیزان انوسٹمنٹ مینجمنٹ کے سینئر ایگزیکٹو نائب صدر طلحہ انور نے کہا کہ بینک کوروشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے ذریعے ایک ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سرمایہ کاری میں اکثریت یعنی پچاس فیصد حصہ مشرق وسطیٰ سے آیا ہے جس میں سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک شامل ہیں جبکہ امریکہ سے بھی قابل ذکر حد تک دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کررہے ہیں کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایکویٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں