غزہ حملوں کے تناظر میں لاکھوں اہل کراچی کا تاریخ ساز ''فلسطین مارچ''

فلسطین پر سراج الحق کا اقوام متحدہ کو پاکستان سے ایک کروڑ پٹیشنز ارسال کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ اقوام متحدہ میں سکریٹری جنرل اور یو این او کو جگانے کے لیے ایک کروڑ پٹیشن پاکستان کی عوام کی طرف بھیجیں گے اور مطالبہ کریں کہ اسرائیلی دہشت گردوں کو لگام ڈالی جائے اور اگر اسرائیلی دہشت گردوں کو لگام نہیں ڈالی گئی تو دنیا میں تیسری جنگ عظیم ہوگی۔

امریکہ صدر نے کہا کہ ہم اسرائیل کا ساتھ دیں گے۔ ہم امریکہ صدر سے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر تم نے اسرائیل کا ساتھ دیا تو ہم اسلام آباد میں سفارتخانے کے گھیراؤ کے لیے طوفان اقصیٰ کا اعلان کریں گے اور فلسطین کے مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔

جماعت اسلامی کے تحت شاہراہ فیصل ہونے والا عظیم الشان اور تاریخی ''فلسطین مارچ'' کراچی کا تاریخی مارچ اور اتحاد امت کا بھرپور مظہر ثابت ہوا۔ مارچ کے لاکھوں شرکاء جن میں مرد وخواتین، بچے، بزرگ، نوجوان سمیت مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شامل تھے۔

سراج الحق نے فلسطین مارچ میں اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کیا اور شرکاء سے سوال کیا کہ کیا وہ اس کے لیے تیار ہیں تو لاکھوں افراد نے فلک نعرے لگاتے ہوئے اسرائیل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

آج کے عظیم الشان فلسطین مارچ کے ذریعے عالم اسلام کے حکمران سے مطالبہ کرتا ہوں کہ غزہ کو لاشوں اور ملبے کا ڈھیر بننے کا انتظار نہ کریں اور فوری طور پر غزہ کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہم خیر مقدم کرتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب نے فلسطین کے حوالے سے آپس میں رابطے شروع کیے ہیں۔ اگر حکمرانوں نے غیر جانبداری اور خاموشی اختیار کی تو ہم سمجھیں کہ انہوں نے اسرائل اور امریکہ ساتھ دیا۔

وزیر اعظم سن لیں کہ ابھی چائنہ نہیں بلکہ بیت المقدس اورمسجد اقصیٰ بچانے کے لیے فلسطین جانے کا وقت ہے۔ آرمی چیف صاحب سے کہتا ہوں کہ اس وقت صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی بن جائیں دو ارب مسلمان آپ کی پشت میں ہوں گے۔ امت کو اس وقت صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی اور محمد بن قاسم کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ معیشت کو بہتر کرنے کے لیے بات کر رہے ہیں۔

شرکاء نے امریکی و یہودی سازشوں و کوششوں کے خلاف اور فلسطینی مسلمانوں وحماس کے مجاہدین کی جدو جہد سے بھرپور اظہار ِ یکجہتی کیا۔ نرسری بس اسٹاپ سے تاحد نگاہ دور تک شرکاء کے سر ہی سرنظر آرہے تھے۔ فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر سمیت لبیک لبیک الھم لبیک ،لبیک یا غزہ ،لبیک یا اقصیٰ کے نعروں سے گونجتی رہی اور شرکاء میں زبردست جوش وخروش دیکھنے میں آیا ۔

شاہراہ فیصل پر دونوں اطراف مارچ کے شرکاء موجود تھے ایک ٹریک مردوں کے لیے اور دوسرا ٹریک خواتین کے لیے مختص تھا ۔٭گرمی کے باوجود خواتین کے ساتھ چھوٹے اور ننھے منے بچے بھی بڑی تعداد میں شریک تھے ۔ لاکھوں شرکاء نے مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ فلسطین مارچ میں شاہراہ فیصل پر اہل کراچی جوق در جوق امڈ آئے اور پوری شاہراہ لبیک یا اقصیٰ لبیک یا غزہ کے کتبوں وماتھے پر بندھی پٹیوں، فلسطین کے جھنڈو ں مخصوص رومالوں کی بہار کا منظر پیش کررہی تھی۔

مارچ کے شرکاء شہر بھر سے جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں بسوں، ویگنوں، سوزوکیوں ،ٹرکوں ،کاروں اور موٹر سائیکلوں پر شاہراہ فیصل پہنچے۔ شاہراہ فیصل پر سڑک کے دونوں طرف خواتین اور مردوں کے لیے الگ الگ استقبالیہ کیمپ لگے ہوئے تھے۔ جبکہ الخدمت کراچی کی جانب سے ایک طبی کیمپ اور شاہراہ فیصل پر 3 موبائیل ڈسپنسریاں بھی موجود تھیں۔ شرکاء نے ہاتھوں میں جماعت اسلامی اور فلسطین کے جھنڈے اور حماس اور غزہ کے مجاہدین سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف کتبے اٹھارکھے تھے۔

مارچ میں شریک نوجوانوں کی بڑی تعداد نے کالے رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی جن پر لبیک یا اقصیٰ تحریر تھا اور مسجد اقصیٰ کی تصویر بنی ہوئی تھی اسی طرح سکیورٹی پر مامور نوجوانوں نے سرخ رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور سروں پر فلسطینی کفیہ باندھے ہوئے تھے۔

مارچ سے نائب امیرکراچی ڈاکٹر اسامہ رضی،کراچی بارایسوسی ایشن کے صدر عامر سلیم،اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم محمد بلال ودیگر نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو، فلسطین فاؤنڈیشن کے رہنما صابر ابو مریم، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ باقر زیدی،تاجر رہنما جنید باری، اسلم بھٹی، اسلم خان، محمود حامد، جماعت اسلامی اقلیتی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈوکیٹ ودیگر بھی موجود تھے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں