فلسطین میں لڑنے کی اجازت دی جائے، اسرائیل کو بحر مردار میں پھینکیں گے: فضل الرحمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا اور مغرب اسلام ومذہب کے خلاف وہی کردارادا کر رہے ہیں جو کبھی سوویت یونین کرتا تھا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اوربیورو کریسی امریکا ومغرب کے دباﺅ میں اور ان کے مفادات کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اسلامی ممالک ہمیں فلسطینیوں کے ساتھ لڑنے کی اجازت دیں، ہم اسرائیل کو بحر مردار میں پھینک دیں گے۔

پشاور میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا کہ چالیس سالوں میں دنیا تبدیل ہو گئی ہے اور سوویت یونین ختم جبکہ امریکا اکلوتی سپر پاور بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور مغرب اسلام ومذہب کے خلاف وہی کردارادا کر رہے ہیں جو کبھی سوویت یونین کرتا تھا، ہماری اسٹیبلشمنٹ اوربیورو کریسی امریکا ومغرب کے دباﺅ میں اور ان کے مفادات کے مطابق کام کرتے ہیں، پاکستان میں اپنا قانون و آئین غیرموثر اور بین الاقوامی اداروں کی مانی جاتی ہے، یہ ملک کلمہ کی بنیاد پربنا تھا مگر اب سیکولر ہو گیا ہے، پاکستان کے نظریے کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

قائد جمعیت نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی بھائیوں کے خلاف درندگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، اسرائیل مظالم کی حدیں توڑ رہا ہے۔ ہم پاکستان میں اسرائیل کے ایجنٹ کے خلاف نکل سکتے ہیں تو اسرائیل کے خلاف بھی میدان میں ہیں۔ ہمیں انسانی حقوق کا درس دینے والوں کے ہاتھوں سے مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے لیکن اسے دہشت گرد نہیں کہا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کو پیغام ہے کہ مسلم امہ کے طور پرایک پیغام اپنائیں اورفلسطین کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا اجازت دے تو ہم فلسطین کے شانہ بشانہ لڑنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں