ماہرہ خان کو غزہ ۔ اسرائیل جنگ کے دوران کس ٹی وی انٹرویو نے متاثر کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے بعد سوشل میڈیا بھی میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ معروف مصری کامیڈین باسم یوسف اور برطانوی اینکر پیئرز مورگن کا تازہ انٹرویو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے، جس میں باسم یوسف کے انٹرویو کے دوران طنزیہ تبصرے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے ہوئے ہیں۔

اسرائیل فلسطین جنگ کے بارے میں گفتگو میں طنزیہ انداز میں گفتگو کرنے پر باسم یوسف کی تعریف کی جا رہی ہے۔ پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر انٹرویو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انٹرویو ضرور دیکھیں۔

وائرل انٹرویو میں غزہ پر حملے کو خوفناک قرار دیتے ہوئے باسم یوسف نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حالت زار اور اسرائیلی جوابی فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بھی بات کی۔

اینکر کی جانب سے اس سوال پر کہ ان کے خیال میں خونی دہشت گردانہ حملوں کے بعد اسرائیل کے لیے جواب دینے کا ’مناسب طریقہ‘ کیا ہے؟ باسم یوسف نے طنزیہ انداز میں کہا

’میں بھی بالکل ایسا ہی کروں گا جیسا کہ اسرائیل نے کیا، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ماروں گا کیونکہ دنیا مجھے ایسا کرنے دے رہی ہے‘۔

اسی انٹرویو کے دوران، باسم یوسف نے اسرائیل پر طنز کیا کہ وہ ‘دنیا کی واحد فوجی طاقت ہے جو شہریوں کو بمباری سے پہلے خبردار کرتی ہے۔

یوسف نے میزبان کے ایک سوال کو اس پر اُلٹتے ہوئے کہا کہ حماس کے جنگجوؤں کو ختم کیا جانا چاہیے، لیکن انہوں نے پوچھا کہ مغربی کنارے میں لوگ کیوں مارے جا رہے ہیں جہاں حماس کی کوئی وجود ہی نہیں ہے، وہاں لوگوں کو مارنے کا کیا سبب ہے؟

انہوں نے فلسطین اور اسرائیل میں مارے جانے والوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا سوال یہ ہے کہ آج کتنے انسان زندہ بچے ہیں؟‘

باسم یوسف نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں’سیکنڈ ہینڈ‘ خبریں موصول ہوئی ہیں۔ میری اہلیہ کا خاندان غزہ میں رہتا ہے، وہاں ان کے کزن اور چچا ہیں اور ان کے گھر پر بھی بمباری کی گئی۔ ہم گزشتہ تین دنوں سے ان سے رابطہ نہیں کرسکے۔ رابطے ختم ہو گئے ہیں لہٰذا ہم نہیں جانتے کہ وہ کیسے ہیں، لیکن ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔

باسم نے طنزاً کہا کہ فلسطینی بہت ڈرامہ کرتے ہیں۔ کہتے ہیں’اسرائیل ہمیں مار رہا ہے، لیکن وہ کبھی نہیں مرتے‘ اسک ے بعد انہوں نے توقف کیا اور پھر کہا ’ کیونکہ میں نے ایک سے شادی کی ہے اور کئی بار کوشش کی ہے کہ اسے ماروں لیکن اسے مار نہیں سکا، میں ہر بار اس کے پاس جانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن وہ ہمارے بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے‘۔

اپنے شو ’پیئرز مورگن ان سینسر‘ کے دوران، مورگن نے کہا کہ حماس کو ختم کرنا مشکل ہوگا، جیسا کہ اسرائیلی حکام نے ’بڑے پیمانے پر، زبردست نقصان کے بغیر‘ کرنے کا عزم کیا ہے جس کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

یوسف نے جواب دیا: اگر میں اسے صحیح طور پر سمجھ سکتا ہوں، بنیادی طور پر اسرائیل یہ کام غزہ میں فلسطینی برادری پر حماس کے خلاف ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے کر رہا ہے، کیا یہ درست ہے؟ دہشت گرد تنظیمیں بالکل یہی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا دہشت گرد تنظیموں کو جنگ میں پوری قوم کو شکست دینے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ لہٰذا، وہ خوف اور دہشت پھیلانے کے لیے شہریوں کو قتل کرتے ہیں تاکہ عام شہری اپنی حکومت کے خلاف ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ نے صرف اسرائیل کا داعش سے موازنہ کیا ہے۔

اس انٹرویو کو یوٹیوب پر اب تک چار ملین سے زیادہ افراد دیکھ چکے ہیں، سوشل میڈیا پر اسے مسلسل خوب پذیرائی مل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں