پاکستانی نژاد امریکی فیشن ڈیزائنر کی پانچ ماہ حراست کے بعد ضمانت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک ممتاز پاکستانی نژاد امریکی فیشن ڈیزائنر جنہیں 9 مئی کو سابق وزیرِاعظم عمران خان کی مختصر گرفتاری کے نتیجے میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، ان کے اہل خانہ نے بدھ کو کہا کہ انہیں پانچ ماہ کی حراست کے بعد ضمانت مل گئی اگرچہ جمعرات کی صبح یہ واضح نہیں تھا کہ آیا وہ گھر پہنچ گئی تھیں۔

لگژری فیشن برانڈ ایلان کی بانی خدیجہ شاہ خان کے بنیادی سطح کے حامیوں اور اہم معاونین سمیت ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھیں جنہیں 9 مئی کو اراضی کرپشن کے ایک مقدمے میں خان کی گرفتاری کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ ان کے پیروکاروں نے حملے کر کے سرکاری اور فوجی املاک کو نقصان پہنچایا جس میں ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر کا گھر لاہور کا جناح ہاؤس بھی شامل تھا۔

خدیجہ شاہ کی ساس نے ایکس پر پوسٹ کیا، "میری بہو #خدیجہ_شاہ کو بالآخر ضمانت مل گئی ہے۔ خدا کرے آج رات وہ اپنے گھر والوں اور بچوں کے پاس واپس آ جائے۔"

شاہ کے شوہر جہانزیب امین نے کہا: "الحمدللہ پانچ ماہ کے طویل عرصے کے بعد میری اہلیہ خدیجہ کو ان کے دونوں مقدمات میں ضمانت مل گئی ہے۔ ہمارے گھر والے اور بچے ان مشکل مہینوں کے بعد مہلت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ خدیجہ تمام الزامات سے بری اور مکمل طور پر بے قصور ثابت ہو جائیں گی۔"

ایکس پر خدیجہ شاہ کو ضمانت مل جانے کا اعلان کرتے ہوئے ان کے وکیل سمیر کھوسہ نے کہا کہ پولیس نے لاہور ہائی کورٹ کو تصدیق کی کہ جن دو کیسز میں انہیں ضمانت دی گئی، وہ ان کے علاوہ کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تھیں۔

یہ واضح نہیں تھا کہ آیا شاہ ضمانت ملنے کے بعد بدھ کو گھر واپس آ گئی تھیں۔ حالیہ مہینوں میں خان کے کئی حامیوں اور معاونین کو ضمانت ملنے کے بعد نئے مقدمات میں فوراً دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔

شاہ کو 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد تقریباً دو ہفتے مفرور رہنے کے بعد 25 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ شاہ لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس اور گلبرگ میں عسکری ٹاور میں تخریب کاری اور آتش زنی کے دو مقدمات میں ملزم ہیں۔ وہ کسی بھی غلط کام سے انکار کرتی اور کہتی ہیں کہ انہوں نے پرامن احتجاج کیا۔

خدیجہ شاہ ڈاکٹر سلمان شاہ کی بیٹی ہیں جو سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کی معاشی ٹیم کے رکن تھے۔ ان کے والد نے خان کی وزارتِ اعظمیٰ کے دور میں پنجاب حکومت میں بطور مشیر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ایک سابق پاکستانی آرمی چیف کی پوتی ہیں۔

خان کی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کو 9 مئی سے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ ان کے ہزاروں پیروکاروں کو گرفتار کیا گیا اور ان کی پارٹی کے درجنوں ارکان نے انہیں چھوڑ دیا جن میں کچھ قریبی اور پرانے ساتھی بھی شامل ہیں۔

خان جو بدعنوانی کے ایک الگ کیس میں تین سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ میں عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد سے ان کے خلاف متعدد قانونی مقدمات جھوٹے اور سیاسی بنیاد پر قائم کیے گئے ہیں اور یہ کہ اگلے سال کے اوائل میں ہونے والے انتخابات سے قبل ان کی پارٹی کو ختم کرنے کے لیے فوج کے دباؤ پر پی ٹی آئی سے ان کے ساتھیوں کو زبردستی نکالا جا رہا ہے۔ فوج اس بات کی تردید کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں