پاکستان سے امارات کو سمندر کے راستے گوشت کی برآمد کا دوبارہ آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

گوشت کی پروسیسنگ اور برآمد کرنے والی ایک معروف پاکستانی کمپنی نے سمندر کے ذریعے متحدہ عرب امارات کودوبارہ گوشت برآمد کرنا شروع کر دیا ہے۔

کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے گذشتہ دنوں تصدیق کی کہ اس نے متحدہ عرب امارات کے مطلوبہ معیارات کے مطابق اپنی مصنوعات کی پیکیجنگ کو بہتر بنایا ہے۔ اس عمل سے پاکستان کی یو اے ای کو برآمدات بڑھانے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات نے 10 اکتوبر سے سمندر کے راستے پاکستان سے گوشت کی درآمد روک دی تھی جب کم تر کوالٹی کی درآمدہ مصنوعات فراہم کی گئی تھیں۔ تاہم، ہوائی نقل و حمل کے ذریعے چند شرائط کے ساتھ برآمدات پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔

پاکستانی گوشت کے برآمد کنندگان نے اس وقت خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پابندی کے بعد مجموعی طور پر برآمد ہونے والے گوشت کا حجم دو تہائی کم ہو جائے گا، کیونکہ نئی پابندیوں سے پاکستان صرف فضائی راستے سے گوشت برآمد کر سکے گا، جو نسبتاً مہنگا ہے اور اس کے مواقع بھی محدود ہیں۔

امارات پاکستان کے لیے ایک اہم تجارتی منڈی ہے اور مقامی کمپنیاں اسے سالانہ تقریباً 144 ملین ڈالر کا گوشت برآمد کرتی ہیں۔

پاکستان دنیا کے بڑے گوشت پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق سے ایک اہم منڈی خلیج تعاون کونسل کے ممالک کی ہے جسے گوشت کی برآمد کے لیے کوششیں تیز کی جا رہی ہیں جس سے برآمد کنندگان کو مدد مل رہی ہے۔

کراچی میں قائم آرگینک میٹ کمپنی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل حسین، جو ایک معروف میٹ پروسیسر اور ایکسپورٹر ہیں، نے کہا کہ ان کی کمپنی کی یو اے ای کو برآمدات کی ترسیل دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ حسین نے بتایا کہ سمندر کے راستے تازہ کھیپ روانہ کر دی گئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اگلے 8-10 دنوں میں ہم برآمدات کی اسی سطح پر واپس آ جائیں گے جو پابندی لگنے سے پہلے تھی۔

حسین نے بتایا کہ اس حوالے سے نئے معیارات کے مطابق گوشت کے نمونے بھیجے گئے تھے اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس کی منظوری دے دی تھی، جس کے بعد گزشتہ ہفتے باقاعدہ طور پر برآ مدات کا عمل شروع ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خلجی تعاون کونسل کے دوسرے ممالک کو بھی برآمدات جاری ہیں۔

حسین نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے پاکستانی گوشت کی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے پیکیجنگ کے معیار کو بہتر بنائیں تاکہ ان کی مصنوعات کی شیلف لائف بہتر ہو۔ ان احکامات پر عمل کرتے ہوئےنہ صرف انہوں نے اپنے پراسسنگ کے عمل کو بہتر کیا ہے بلکہ ان کی کمپنی دوسرے برآمد کنندگان کو متحدہ عرب امارات کے پیکیجنگ معیارات کی تعمیل کرنے میں بھی مدد کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پوری صنعت خصوصاً کراچی کی کمپنیوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر متحدہ عرب امارات برآمدات یہاں سے ہو رہی تھیں۔ درحقیقت، ہم نے ان مذبح خانوں کو پیکیجنگ اور مشینوں کے حصول میں بھی معاونت کر رہے ہیں۔

حسین نے امید ظاہر کی کہ یہ کوششیں نتیجہ خیز ہوں گی اور پاکستان کی گوشت کی صنعت پابندی سے پہلے والی سطح پر جلد واپس آ جائے گی۔

حسین نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل کی کی مارکیٹ گوشت کی برآمدات کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارے پاس یہاں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی دو اہم منڈیاں ہیں جہاں ماضی کے مقابلے منجمد مصنوعات کی بے پناہ صلاحیت ہے اور اس کا حجم دونوں منڈیوں میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔

حسین نے کہا کہ ان کی کمپنی کو متحدہ عرب امارات سے 2,000 میٹرک ٹن منجمد ہڈیوں والے گوشت کا آرڈر موصول ہوا ہے اور اسے منجمد اور تازہ ویکیوم پیکڈ "ریڈ اینڈ وائٹ آفل" برآمد کرنے کی اجازت بھی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کر رہے ہیں کہ اس پروڈکٹ کے شامل ہونے سے مارکیٹ میں مثبت اثر پڑے گا کیونکہ یہ ایک نئی چیز ہے جو پاکستان سے برآمد کی جائے گی۔

حسین نے بتایا کہ سعودی عرب میں بغیر ہڈیوں کے منجمد گوشت کا مارکیٹ شیئر بڑھ رہا ہے اور اس حوالے سے نئے آرڈرز میں ایک بار پھر اضافہ ہو رہا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان سے گوشت اور گوشت کی مصنوعات کی برآمدات 25 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 427 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جبکہ رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران یہ برآمدات 20 فیصد اضافے سے 113 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں