پاکستانی فارما کمپنی تصدیق شدہ زنک مصنوعات کی برآمد کیلئے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ صحت سے تصدیق کی مہر ثبت ہونے کے بعد زنک شربت تیار کرنے والی پہلی پاکستانی کمپنی عالمی سطح پر قدم جمانے کے لیے تیار ہے۔

اس سال جولائی میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، عالمی ادارہ صحت سے پری کوالیفیکیشن حاصل کرنے والی پہلی کمپنی کے طور پر ابھرنے والی مقامی ادویات ساز کمپنی، فارم ایوو اب زنک شربت اور دوسری مصنوعات کی برآمدی منڈی میں قدم رکھنے کیلئےپر تول رہی ہے۔

زنک پر مشتمل ادویات کا نمکول جیسے طبی محلول کے ساتھ استعمال، اسہال کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والی بچوں کی اموات سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ زنک کی اضافی خوراک اسہال کی مدت اور شدت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم ابھی تک سائنسی تحقیق میں اس کا اثر پذیر ہونے کے عوامل پوری طرح سے واضح نہیں ہیں۔

PharmEvo کے منیجنگ ڈائریکٹر ہارون قاسم نے کہا کہ WHO کی جانب سے زنک کی گولیاں اور شربت تیار کرنے کی منظوری اور سرٹیفیکیشن کمپنی کو برآمدات کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے قدموں کے نشانات کو بڑھانے میں مدد دے گی۔ یہ اہلیت عطیہ دینے والی ایجنسیوں کو کمپنیوں کو پہلے سے منتخب کرنے اور ان سے فارماسیوٹیکل
مصنوعات حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے۔

ہارون قاسم، فارم ایوو کے ڈائریکٹر جنرل نے گزشتہ دنوں اس پیش رفت کے متعقلق بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کی پری کوالیفیکیشن کا حصول پاکستان کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے کیوں کہ دنیا بھر میں زنک گولیوں اور شربت کی تیاری کیلئے طے کیئے گئے معیار پر پوری اترنے والی انکی واحد کمپنی ہے۔ دنیا میں کوئی دوسری کمپنی ایسی نہیں ہے جس نے زنک سسپنشن کے لیے پری کوالیفائی کیا ہو۔

فارم ایوو کے ایم ڈی کے مطابق یہ سرٹیفیکیشن پاکستان میں تیار ہونے والی دواسازی کی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک "گیٹ وے" کا کام کرے گی۔

عالمی سطح پر ادویات کا کاروبار کرنے کیلئے پری کوالیفیکیشن کسی بھی کمپنی کے لیے ایک اہم سرٹیفیکیشن ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے بین الاقوامی معیارات کے لیے اہل ہونا ہیں اس حوالے سے ایک بنیادی شرط ہے۔
پاکستان سے فارماسیوٹیکل مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کی کافی گنجائش موجود ہے۔گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان سے 328 ملین ڈالر کی فارماسیوٹیکل مصنوعات برآمد کی گئی تھیں۔جبکہ ادارہ شماریات کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے تین مہینوں کے دوران، پاکستان نے فارماسیوٹیکل مصنوعات کی برآمدات کے ذریعے 27 ملین ڈالر کمائے۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کے سیکرٹری ڈاکٹر فرید اقبال قریشی نے ادویات کی برآمد کیلئے ڈبلیو ایچ او کی تصدیق کو ملک کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے سے دنیا کے کئی ممالک کو پاکستان کی ادویات کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے پاکستانی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو حکومتی تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ انہیں افریقی ممالک کو اپنی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

پاکستان زنک پروموشن سوسائٹی کے صدر سید جمشید احمد نے بتایا، کہ زنک کے استعمال کی اہمیت اسہال کے مریضوں، خاص طور پر بچوں میں بہت زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں