انتقام کی نہیں قوم کو خوشحال بنانے کی تمنا ہے، نواز شریف

ملک کو آئی ٹی پاور بنائیں گے، کسی کو اجازت نہیں دینی کہ وہ ملک سے کھلواڑ کرے، سابق وزیراعظم کا مینار پاکستان پر جلسہ عام سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ انتقام کی تمنا نہیں، تمنا ہے قوم کے لوگ خوشحال ہو جائیں، ملک کو آئی ٹی طاقت بنائیں گے، اگر 23 سال ضائع نہ کئے ہوتے تو پاکستان جنت بنا ہوتا، عوام کے مسائل کے حل کیلئے آئین پر عملدرآمد کرنیوالے ادارے، جماعتیں اور ریاستی ستونوں کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

قائد مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے دبئی سے براستہ اسلام آباد لاہور ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد مینار پاکستان میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔

جلسہ گاہ پہنچنے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ نواز شریف کے استقبال کے لیے مینار پاکستان میں پارٹی پرچموں کے ساتھ کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، نواز شریف جب اسٹیج پر پہنچے تو قومی ترانہ بجایا گیا اور شہباز شریف نے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگوائے اور کارکنوں نے بھرپور جواب دیا، جس کے بعد تلاوت کلام پاک اور نعت پڑھا گیا۔

خواجہ سعد رفیق نے تقاریر شروع ہونے سے قبل قرارداد پیش کی کہ فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ فوری طور پر ختم کیا جائے، کشمیر پر بھارت کا غیرقانونی تسلط ختم کردیا جائے اور کارکنوں نے قرارداد کے حق میں نعرے بلند کیے۔

نواز شریف نے تقریر شروع کرنے سے قبل امن کی علامت فاختہ فضا میں چھوڑا۔

چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن لوٹنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف نے مینار پاکستان پر جلسہ عام سے خطاب کا آغاز شعر سے کیا۔ کہاں سے چھیڑوں فسانہ، کہاں تمام کروں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ میری طرف دیکھیں تو سلام کروں

انہوں نے کہا کہ کئی سالوں بعد آپ سے ملاقات ہو رہی ہے، آپ سے میرا پیار کا رشتہ قائم و دائم ہے، اس رشتے میں کوئی فرق نہیں آیا، نہ نواز شریف نے آپ کو دھوکہ دیا نہ آپ نے نواز شریف کو۔

نواز شریف نے کہا کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم نے کس طرح کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈبل سپیڈ کے ساتھ دوڑنا ہو گا، ہمیں ہاتھوں میں پکڑا کشکول ہمیشہ کے لیے توڑنا ہو گا، ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہو گا۔ کس طرح اپنی قومی غیرت اور وقار کو بلند کرنا ہو گا، کس طرح پاکستان کے اندر بےروزگاری اور غربت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ کس طرح ایک باوقار اور فعال خارجہ پالیسی بنانا ہو گی۔ کس طرح اپنے ہمسایوں اور دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنا ہو گا۔

’ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ لڑائی کر کے ترقی نہیں کر سکتے۔ ہمیں سب کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔ اور کشمیر کے حل کے لیے بھی بہت باوقار تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ اگر مشرق پاکستان علیحدہ نہ ہو گیا ہوتا تو آج اس کے اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک اکنامک کاریڈور بن گیا ہوتا جس کو انڈیا بھی راہ دیتا۔ اور مغربی پاکستان اس وقت کے مشرقی پاکستان کے ساتھ مل کر ترقی کرتا لیکن ہم نے تو کہا کہ یہ مشرقی پاکستان کے رہنے والے کون لوگ ہیں۔ یہ تو جیوٹ اگاتے ہیں اور ہمارے اوپر بوجھ ہیں۔ ہم نے اس بوجھ کو اتار کر زمین پر مارا۔ آج دیکھ لیں وہی مشرقی پاکستان ترقی میں آپ سے آگے نکل گیا ہے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ ہمیں منظور نہیں ہے۔ یہ مسلم لیگ ن کو منظور نہیں ہے، یہ نواز شریف کو منظور نہیں ہے، یہ نواز شریف کے ووٹرز اور سپورٹرز کو منظور نہیں ہے، یہ پاکستانی عوام کو منظور نہیں ہے۔ ہم نے اس صورتحال سے باہر نکلنا ہے۔‘

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ میری ماں اور بیوی میری سیاست کی نذر ہو گئیں۔ سنیچر کو مینار پاکستان میں مسلم لیگ ن کے جلسے سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ ’آج آپ کی محبت دیکھ کر سارے دکھ درد بھول گیا ہوں۔ میں یاد بھی نہیں کرنا چاہتا لیکن میرے بھائیوں کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جو انسان بھلا تو نہیں سکتا لیکن ایک طرف رکھ سکتا ہے۔ کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جو انسان کچھ دیر کے لیے فراموش کر سکتا ہے لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی نہیں بھرتے۔ آپ جانتے ہیں یہ جو کاروبار ہے یا مال ہے یہ چلا جاتا ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ لیکن جو اپنے پیارے آپ سے جدا ہو جاتے ہیں وہ کبھی واپس نہیں آتے۔‘

’آج میں سوچ رہا تھا کہ میں جب بھی کبھی باہر سے آتا تھا اور گھر پہنچتا تھا تو میری والدہ اور میری بیوی کلثوم میرے استقبال کے لیے دروازے پر کھڑی ہوتی تھیں۔ آج میں جاؤں گا تو وہ دونوں نہیں ہیں۔ وہ میری سیاست کی نذر ہو گئیں۔ میں نے سیاست میں انہیں کھو دیا وہ مجھے دوبارہ نہیں ملیں گی۔ یہ بہت بڑا زخم ہے جو کبھی بھرے گا نہیں۔‘

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف کا استقبال کرنےa والوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
سنیچر کو مینار پاکستان میں مسلم لیگ ن کے جلسے سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف نے جیلیں کاٹیں لیکن صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف آ گیا ہے اب پاکستان کی تقدیر بدلے گی، غربت اور بیروزگاری ختم ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں