میاں نواز شریف چار سال بعد پاکستان واپس پہنچ گئے

خود ساختہ جلا وطنی کے بعد چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے لیے پر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف دبئی سے واپس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وہ تقریبا چار سال بعد لندن سے براستہ دبئی واپس آئے ہیں۔ ان کا خصوصی طیارہ ان کے جانثار اور وفادار پارٹی رہنماوں اور کارکنوں کے علاوہ صحافیوں سے بھی لدا ہوا ہے۔ ان کا خصوصی طیارہ قدرے تاخیر سے تقریبا دو بجے اسلام آباد ائیر پورٹ پر لینڈ ہوا ۔

اپنے ساتھ طیارے میں لائے گئے صحافیوں کو مسلم لیگی قیادت نے اسلام آباد ائیر پورٹ پر طیارے کے اندر ہی رہنے کے لیے۔ جہاں میاں نواز شریف کی امیگریشن اور عدالتی تقاضوں کو پورا کرنے والے کاغذات مکمل ہونے کے بعد میاں نواز شریف کا خصوصی طیارہ بعد ازاں لاہور کی اڑان بھرنے کے لیے تیاری میں بتایا گیا ہے۔

میاں نواز شریف جو نومبر دو ہزار انیس میں لاہور سے علاج کے سلسلے میں آٹھ ہفتوں کے لیے لندن گئے تھے۔ وطن واپسی پر انہوں نے امیگریشن مکمل ہونے کے بعد اپنی لیگل ٹیم سے قانونی مشاورت کی اور اطمینان حاصل کیا۔ نواز شریف کے پاسپورٹ پر پاکستان میں داخلے کی مہر لگا دی گئی ہے۔

نواز شریف نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواست پر دستخط کر دیے۔ نواز شریف کی قانونی ٹیم نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواست تیار کی تھی۔

میاں نواز شریف کو ان کے خاندان اور جماعت کے لوگوں کی چند ہفتے قبل یہی رائے سامنے آئی تھی کہ اگر میاں نواز شریف نے اب بھی وطن واپسی کا فیصلہ نہ کیا تو نواز لیگ کی سیاسی پوزیشن پر نہایت برے اثرات کا خطرہ ہے، حتیٰ کہ صوبہ ہنجاب اور لاہور میں بھی ان کی جماعت کے لیے عوامی اور انتخابی مشکلات کا ازالہ مشکل ہو جائے گا۔

مسلم لیگی ذرائع کا اس پس منظر میں کہنا تھا کہ اب میاں نواز شریف کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ کیونکہ اب عوام سے میاں نواز شریف کی مزید دوری کی پارٹی اور پارٹی قیادت متحمل نہیں ہو سکتی ہے۔

سابق وزیر اعظم اسلام آباد سے لاہور پہنچنے کے بعد لاہور کے تاریخی مینار پاکستان کی گراونڈ میں پاکستان بھر سے اکٹھے کیے گئے اپنے حماتیوں کے اجتماع سے خطاب کریں گے۔

بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے نئے سیاسی بیانیے اور اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے بارے میں بھی اپنے پرانے اور نئے موقف کو ملا کر ایک نیا موقف بھی پیش کر سکتے ہیں۔

ان کی وطن واپسی کے بعد مسلم لیگ نواز کی سیاست کے ایک نئے دور کا اغاز ہوگا ۔ تاہم یہ کہنا فی الحال مشکل ہے کہ ان کی جماعت کی سیاست ان کے ماضی اوران کی ماضی کی حکومتوں سے کتنی مختلف ہو گی۔

مسلم لیگی ذرائع کے مطابق اس کا بڑا انحصار ملک کے اندر علانیہ اور غیر علانیہ فیصلہ سازوں پر ہے کہ وہ ملکی سیاسیت کو کس رخ پر اور کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب لاہور کے تاریخی مینار پاکستان گراونڈ کے جلسے کا ماحول بتائے گا جہاں کئی ماہ کی تیاری کے بعد حاضرین کے لیے میڈیا رپورٹس کے مطابق لگ بھگ چالیس ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایک بڑا استقابل اور جلسہ ہوگا۔ میں نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے لیے پر امید ہیں۔ انہوں نے اپنے طیارے کو 'امید پاکستان' کا ہی نام دے رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں