نو مئی نہیں، ہم 28 مئی والے ہیں: نواز شریف کی دبئی ایئرپورٹ پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ چار برس بعد پاکستان جانے پر خوشی ہے، الیکشن کے لیے بالکل تیار ہیں۔ ہم نو مئی والے نہیں 28 مئی والے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دبئی ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نواز شریف نے کہا ’’کہ جب پاکستان سے جا رہا تھا تو خوشی نہیں تھی، بہت اچھا ہوتا اگر 2017 کے مقابلے میں آج حالات بہتر ہوتے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’کہ دکھ کی بات ہے کہ ملک آگے جانے کی بجائے پیچھے چلا گیا، ہمیں اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہے، کوئی ہمیں اٹھا کر کھڑا نہیں کرے گا، حالات ہم نے بگاڑے بھی خود ہیں، درست بھی ہم ہی کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’کہ وہ پاکستان یاد کرکے تکلیف ہوتی ہے جو آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ چکا تھا، بجلی وافر تھی، روپیہ مستحکم تھا، لوگوں کو روزگار مل رہا تھا، روٹی سستی تھی، علاج کی سہولتیں میسر تھیں، کیا آج وہ پاکستان نظر آتا ہے؟‘‘

نواز شریف نے سوال کیا کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے؟ یہ نوبت کیوں آئی؟ ہمارا شمار تو آج دنیا کی بلند ترین قوموں میں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ چار برس بعد پاکستان جانے پر خوشی ہے، الیکشن کے لیے بالکل تیار ہیں، ہم اس قابل ہیں کہ ملک کے حالات درست کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے انعقاد کا بہتر فیصلہ الیکشن کمیشن ہی کر سکتا ہے، اس طرح کے فیصلوں کے لیے مجاز ادارہ الیکشن کمیشن ہی ہے، انتخابات کے لیے میری ترجیح وہی ہے، جو الیکشن کمیشن اعلان کرے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ میں وہ شخص ہوں جس نے ڈیڑھ، ڈیڑھ سو پیشیاں بھگتی ہیں، نہ صرف میں بلکہ میری بیٹی نے بھی پیشیاں بھگتیں، بالآخر میری بیٹی کو کلین چٹ مل گئی تھی اور وہ ملنی ہی تھی کیونکہ جب ہماری حکومت تھی تو وہ کسی بھی عہدے پر فائز نہیں رہی تھیں، نہ وہ کوئی وزیر مشیر تھیں، انہیں ایسے ہی دھر لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور ہمارے خاندان سے باہر کے لوگوں پر بھی کیا کچھ بیتی، میں رانا ثنا اللہ اور حنیف عباسی کی مثال دیتا ہوں، کیا ان کے خلاف کیسز جائز تھے؟

نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے کیا انہیں آپ نے معاف کردیا؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے میں کسی حد تک بلکہ کافی حد تک سرخرو ہو کر جا رہا ہوں، میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ سب کچھ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔

نو مئی واقعات کے حوالے سے سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ہم نو مئی والے نہیں 28 مئی والے ہیں۔

سابق وزیر اعظم نوازشریف چار سال بعد وطن واپسی پر ان کے استقبال کے لیے لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں مینار پاکستان تلے جلسے کا انعقاد کیا گیا ہے جہاں وہ کارکنان سے خطاب کریں گے اور معیشت کی بحالی کے پلان کا اعلان کریں گے۔

میاں نواز شریف کے استقبال کے لیے پاکستان بھر سے کارکنان قافلوں کی صورت میں لاہور پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔ سابق وزیراعظم شام چار بجے لاہور پہنچیں گے اور بذریعے ہیلی کاپٹر مینار پاکستان اتریں گے۔

فول پروف سکیورٹی

جلسے کی سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ چار سو سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لیے مرکزی کنٹینر پر بلٹ پروف شیشہ نصب کر دیا گیا ہے، جہاں سے نواز شریف خطاب کریں گے۔

خصوصی انتظامات

مسلم لیگ ن کے مطابق جلسہ انتظامیہ نے 40 ہزار کرسیاں جلسہ گاہ میں لگائی ہیں جب کہ ضلعی انتظامیہ کے مطابق 10 سے 11 ایکڑ کی زمین پر جلسہ گاہ محیط ہے۔

جلسہ گاہ میں گزشتہ روز سے ہی ملک کے مختلف حصوں سے قافلے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گلگت بلتستان اور سندھ کے قافلے جلسہ گاہ میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

جلسہ گاہ میں خیمہ بستیاں آباد کی گئیں ہیں جس میں ملک کے دور دراز علاقوں سے آنے والے کارکنان کو ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن کےرضاکاروں کی بڑی تعداد نے جلسہ گاہ میں کیمپ لگایا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں