سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ پر جرم عائد کی گئی جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کیا۔

خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو گواہان کو طلب کرلیا۔

چییرمین پی ٹی آئی نے فرد جرم صحت سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ جھوٹا، من گھڑت اور سیاسی انتقام پر مبنی کیس ہے، اس میں بے گناہی ثابت کروں گا۔ سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی نے بھی فرد جرم صحت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو سرکاری گواہان کو طلب کرلیا۔
وکلاء صفائی نے فرد جرم کارروائی روکنے کی درخواست دائر کی تھی جبکہ پراسیکیوٹر شاہ خاور نے درخواست کی مخالفت کی۔ پراسیکیوٹر شاہ خاور نے موقف اختیار کیا کہ یہ تاخیری حربہ ہے۔ آج کی کارروائی صرف فرد جرم کے لیے ہے۔ درخواست خارج اور فرد جرم عائد کی جائے۔

گذشتہ تاریخ پر چالان نقول تقسیم کرکے فرد جرم کے لیے آج کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ چییرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے نقول وصول کر کے دستخط بھی کر دئیے تھے۔ سائفر کیس کی سماعت کے موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے۔

یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے 30 ستمبر کو عدالت میں چالان جمع کرایا تھا جس میں مبینہ طور پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز 5 اور 9 کے تحت سائفر کا خفیہ متن افشا کرنے اور سائفر کھو دینے کے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا۔

ایف آئی اے نے چالان میں 27 گواہان کا حوالہ دیا، مرکزی گواہ اعظم خان پہلے ہی عمران خان کے خلاف ایف آئی اے کے سامنے گواہی دے چکے ہیں۔

اعظم خان نے اپنے بیان میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ عمران خان نے اس خفیہ دستاویز کا استعمال عوام کی توجہ عدم اعتماد کی تحریک سے ہٹانے کے لیے کیا جس کا وہ اُس وقت بطور وزیر اعظم سامنا کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں