سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دے دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دے دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں پیر 23 اکتوبر کو نو مئی کے واقعات کے بعد فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کیا ہے۔

سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ عام عدالتیں ہوتے ہوئے ملٹری عدالتوں کے ذریعے عام شہریوں کا ٹرائل غیر آئینی قرار دیا جائے اور آرمی ایکٹ کے مختلف سیکشنز آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔

ان درخواستوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

فوجی عدالتیں

عام فہم الفاظ میں فوجی عدالتیں پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت قائم کی جاتی ہیں اور فوج کے حاضر سروس افسران ہی ان عدالتوں میں بطور جج بیٹھتے ہیں۔

یہ عدالتیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 175 کے تحت قائم کردہ عام عدالتی ڈھانچے سے باہر کام کرتی ہیں اور ملک کی باقی فوجداری عدالتوں کے برعکس وہ ملک کے عمومی ضابطہ فوجداری اور قانون شہادت پر شق وار عمل کرنے کی پابند نہیں ہیں۔

ان عدالتوں کی طرف سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل یا نظرثانی کی درخواست بھی سزا کی نوعیت کے مطابق صرف فوجی حکام یا فوجی سربراہ یعنی چیف آف آرمی سٹاف کو ہی کی جا سکتی ہے۔

یہ عدالتیں ہائی کورٹس کی عمومی انتظامی ماتحتی میں نہیں آتیں اور آئین کے آرٹیکل 199 میں دیے گئے خصوصی اختیارات کو استعمال کرنے کے علاوہ ملک کی اعلی عدلیہ ان عدالتوں کی کارروائی یا سزاؤں کی بابت کوئی حکم صادر نہیں کر سکتیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں