نقلِ مکانی کے موضوع پر پاکستانی فلم جدہ کے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں انعام کے لیے پرامید

مختصر فلموں کے مقابلے میں شامل 'صولتیہ' کی کہانی شوہر کو تلاش کرنے والی ایک غمزدہ بیوی کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مختصر دورانیے کی فلم 'صولتیہ' میں مرکزی کردار ادا کرنے والی پاکستانی اداکارہ امتل باویجا نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ "بہت پرجوش" ہیں کہ اس پروجیکٹ کو اگلے ماہ جدہ میں شروع ہونے والے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں انٹری مل گئی ہے۔

اس فلمی میلے کا تیسرا ایڈیشن 30 نومبر سے 9 دسمبر تک ہو گا۔ مقابلے میں 14 فلموں میں دو پاکستانی فلمیں بھی شامل ہیں جن میں سے ایک صولتیہ ہے جو مختصر فلموں کے زمرے میں رکھی گئی ہے۔

پاکستانی مختصر فلم اس فیسٹیول میں جرمنی، انڈونیشیا، امریکہ، ایران اور جنوبی افریقہ سے آنے والی فلموں کا مقابلہ کرے گی۔ اس فلم کی ہدایت کاری ایک خاتون فلمساز نے کی ہے اور ایک اور نے اسے مشترکہ طور پر پروڈیوس کیا ہے۔

باویجا نے عرب نیوز کو بتایا، "میں بہت بہت زیادہ پرجوش ہوں کیونکہ یہ ہماری پہلی پیشکش ہے۔ اور یقیناً پہلی ہی پیشکش پر منتخب ہو جانا میرے خیال میں ازخود ایک کامیابی ہے۔"

باویجا نے مذکورہ فیسٹیول کو دنیا کے باوقار ترین فلمی میلوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ مختصر فلم کی جیت "ناقابلِ یقین" ہوگی۔

 اس غیرتاریخ شدہ تصویر میں مختصر فلم ’صولتیہ‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے امتل باویجا پاکستان کے شہر لاہور میں ایک منظر فلمبند کروا رہی ہیں۔ (تصویر بشکریہ: صولتیہ)
اس غیرتاریخ شدہ تصویر میں مختصر فلم ’صولتیہ‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے امتل باویجا پاکستان کے شہر لاہور میں ایک منظر فلمبند کروا رہی ہیں۔ (تصویر بشکریہ: صولتیہ)

صولتیہ ڈرامہ کی صنف میں خواتین کی زیرِقیادت بنائی گئی ایک فلم ہے جس کی ہدایات پاکستانی فلمساز حرا یوسفزئی نے دی ہیں اور یہ حرا فاروقی کی مشترکہ پروڈکشن ہے۔ یہ مرکزی کردار زمدہ پر مرکوز ہے جو باویجا نے ادا کیا ہے اور وہ دوسرے بے گھر افراد کے ساتھ ایک پناہ گاہ میں رہتی ہے۔ زمدہ مایوسی کے عالم میں اپنا وقت اپنے گمشدہ شوہر کی پرانی تصاویر دیکھنے میں صرف کرتی ہے جب وہ اس کی رفاقت کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔

باویجا نے کہا کہ سب کچھ کھونے کے باوجود زمدہ ایک مضبوط کردار ہے۔

باویجا نے وضاحت کی۔ "آپ شروع سے دیکھ سکتے ہیں کہ زمدہ ایک بہت مضبوط عورت ہے۔ وہ صحیح کے لیے کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتی۔"

فاروقی جنہوں نے کہا کہ محبت، جدائی، عزم و حوصلہ اور امید کے موضوعات کو دانستہ فلم میں شامل کیا گیا ہے باخصوص نقلِ مکانی کے تناظر میں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ زیادہ تر فلموں میں خواتین کو "کسی ساتھی" کا انتظار کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جو انہیں بچانے آئے۔

فاروقی نے وضاحت کی۔ "زمدہ اس تناظر میں مجبور اور مختلف ہے۔ وہ اپنے شوہر کو تلاش کر رہی ہے، وہ وہی ہے جو جواب طلب کر رہی تھی۔"

فاروقی جو پہلی نسل کی کینیڈین تارکِ وطن ہیں اور ان کے والدین افغان پاکستانی ہیں، نے کہا کہ بے گھر افراد کو محض تعداد کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اکثر انہیں انسانی شکل میں نہیں سمجھا جاتا۔

انہوں نے کہا، "امید، محبت، محرومی، عزم و حوصلے کے موضوعات سے جوڑ کر ہم ان کی کہانیوں کو انسانی روپ دینا چاہتے ہیں۔ کرداروں کے اور اس ہمدردی کے ذریعے جو وہ ایک دوسرے کے لیے محسوس کرتے ہیں۔"

باویجا نے کہا کہ وہ اس پراجیکٹ کی طرف نہ صرف اس کی جاندار بیانیے کی وجہ سے متوجہ ہوئیں بلکہ اس لیے بھی کہ اسے خواتین نے ڈائریکٹ اور پروڈیوس کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا، "جیسے ہی میں نے اسکرپٹ پڑھا تو یوں لگا، 'ٹھیک ہے، مجھے یہ کرنے کی ضرورت ہے، مجھے اسے ممکن بنانے کی ضرورت ہے۔ میں یہ کرنا چاہتی ہوں۔' اور مجھے لگتا ہے کہ جہاں بھی یہ فلم چلائی جائے گی، لوگ اس سے اپنائیت محسوس کریں گے۔"

باویجا کے نزدیک ریڈ سی فلم فیسٹیول سعودی مملکت اور دنیا کے دیگر حصوں کے فلم سازوں اور فنکاروں سے ملنے اور بات چیت کرنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا۔ "مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی انفرادیت لائیں گے۔ آپ جانتے ہیں وہ ہم سے سیکھیں گے اور ہم ان سے۔"

انہوں نے کہا کہ ریڈ سی فلم فیسٹیول دنیا کو دکھانے کا ایک بہترین طریقہ ہے کہ شرقِ اوسط اور مسلم دنیا صحیح سمت میں جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "اگر آپ خود سعودی عرب کو دیکھیں تو حالیہ برسوں میں وہ بہت سے اقدامات کرتے رہے ہیں۔ وہ مواد تخلیق کرنے والوں کے ساتھ اشتراک کر رہے ہیں۔ وہ ملک کو سیاحت اور سفر کے لیے کھول رہے ہیں۔ وہ فنون اور ثقافت کے حوالے سے بہت سے اقدامات کر رہے ہیں۔"

فاروقی نے ریڈ سی فلم فیسٹیول کی بھی تعریف کی اور کہا کہ یہ شرقِ اوسط اور شمالی افریقہ کے خطے اور اس سے آگے کے سب سے بڑے فلمی میلوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آخر مسلم ممالک اپنے بیانیے کی نمائندگی کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

فاروقی نے کہا، "یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ ہم آخرکار اسکرین پر نمائندگی کی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "یہ ممالک اپنے فلم سازوں اور نوجوانوں کو اپنے بیانیے کو خود کنٹرول کرنے اور اپنی کہانیاں سنانے کی ترغیب دے رہے ہیں کیونکہ اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری کہانیاں دوسرے لوگ سناتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں