اسرائیل کی حامی یورپی یونین کی سپانسرشپ واپس, اولین پاکستان سپیلنگ بی مقابلہ شروع

یورپی یونین کی 10،000 یورو کی سپانسرشپ واپس، مقابلے دسمبر تک مختلف شہروں میں ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان سپیلنگ بی مقابلے کے منتظمین نے پیر کو کہا کہ اس کا افتتاحی ایڈیشن گذشتہ ہفتے کے آخر میں ملک کے مشرقی شہر لاہور میں شروع ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایونٹ کے لیے یورپی یونین کی سپانسرشپ کی پیشکش تھی لیکن یہ پیشکش لوٹا دی گئی کیوں کہ مذکورہ یورپی بلاک نے فلسطینیوں کی "نسل کشی" پر اسرائیل کی حمایت کی ہے اور اپنے شہریوں کی طرف سے اس معاملے پر قانونی اختلاف کو جرم قرار دیا ہے۔

عالمی رجحان کے حامل سپیلنگ بی مقابلے بچوں میں زبان کے لیے جذبہ پیدا کرنے اور ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

پاکستانی سٹارٹ اپ اسٹوری کٹ جو انٹرایکٹو (دونوں فریقین کی شرکت) کہانی گوئی اور گیمز کے ذریعے بچوں کی کتابوں کے ساتھ مشغولیت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے، نے اولین پاکستان سپیلنگ بی مقابلہ شروع کیا ہے جو دسمبر تک تقریباً تین درجن شہروں میں جاری رہے گا۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں منعقدہ اس مقابلے میں جماعت 3 سے 8 تک کے 6000 شرکاء شامل ہیں۔

مقابلے کی افتتاحی تقریب 21-22 اکتوبر کو لاہور میں ہوئی جس کے بعد کراچی، پشاور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں اسی طرح کے مقابلے ہوں گے جن میں سرکاری اور نجی دونوں اداروں کی نمائندگی ہوگی۔

گرینڈ فینالے 3 دسمبر کو اسلام آباد میں طے شدہ ہے جس میں پاکستان بھر سے ٹیمیں حصہ لیں گی، جو انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں چھ زمروں میں فاتحین کا اعلان کریں گی۔

سٹوری کٹ کے بانی مشرف علی فاروقی نے پیر کو عرب نیوز کو بتایا، "ہم پہلی بار پاکستان سپیلنگ بی ایونٹ کا انعقاد کر رہے ہیں اور ہمارے پاس 2,000 سے زیادہ ٹیمیں ہیں یعنی پاکستان بھر کے 35 شہروں سے مقابلے میں 6000 سے زیادہ بچے شامل ہیں۔"

"پاکستانی بچوں کے لیے تعلیمی پروگرام کے منتظمین کی حیثیت سے ہمارے لیے یورپی یونین کو اسپانسر کے طور پر رکھنا غیر ذمہ دارانہ اور بےحسی والا عمل ہو گا کیونکہ بلاک نے حال ہی میں نسل پرست اسرائیلی حکومت کی طرف سے معصوم فلسطینی بچوں، خواتین اور مردوں کی نسل کشی اور غیر انسانی سلوک کے لیے سیاسی حمایت کی پیشکش کی ہے۔ اور انہوں نے یورپی شہریوں کی طرف سے ان کے اپنے معاشروں میں قانونی اختلاف کو جرم قرار دیا۔

فاروقی کے مطابق یورپی یونین نے ایونٹ کے لیے 10,000 یورو دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس رقم کا نصف پہلے ہی ادا کر دیا تھا جب کہ بقیہ نصف رقم مقابلے کے بعد ادا کی جانی تھی۔ سٹوری کٹ نے بعد میں پاکستان میں یورپی یونین کے مشن کو منسوخی کی درخواست بھیج دی۔

فاروقی نے کہا، "انہوں نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ وہ رقم واپس حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع کریں گے۔"

اسلام آباد میں یورپی یونین کے مشن نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے ای میل اور فون کے ذریعے عرب نیوز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

فاروقی نے کہا کہ یورپی یونین کی سپانسرشپ کی واپسی کا فیصلہ بالکل بھی جذباتی نہیں تھا بلکہ بخوبی "غور و خوض کے بعد اٹھایا گیا" قدم تھا۔

انہوں نے کہا، "ہمیں یقین ہے کہ بنیادی حقوق، اور بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز بیان بازی پر مبنی نہیں ہیں جو کسی فریق کے مفادات کے لیے کسی نہ کسی طرح موڑے جا سکیں۔" انہوں نے مزید کہا، "اگر کسی کفیل کے خیالات بنیادی انسانی اصولوں سے متصادم ہوں تو پاکستان سپیلنگ بی ان کی سپانسرشپ حاصل نہیں کر سکتی تھی۔"

حماس کے ساتھ اسرائیل کے تنازعہ کا جواب دینے کے بارے میں یورپی یونین کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں اور بلاک کے رہنما جمعرات کو ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں اس مسئلے پر بات کریں گے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے پیر کے روز اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ بلاک کے رہنما غزہ میں امداد کے داخلے کی اجازت دینے کے لیے "انسانی بنیادوں پر جنگ میں تؤقف" کے مطالبے کی حمایت کریں گے۔

یورپی یونین کو طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے حوالے سے اپنی پالیسی پر اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی کارروائیوں کے بعد تشدد میں اضافے کے درمیان یونین کو تضادات درپیش ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے عسکریت پسندوں کے حملے میں کم از کم 1400 افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیل کی تاریخ کے بدترین حملے میں انہوں نے 200 سے زائد افراد کو یرغمال بھی بنا لیا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے اس حملے کا جواب ایک مسلسل بمباری مہم سے دیا ہے جس میں اب تک 5,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں