غزہ میں’جنگی جرائم‘کے لیےاسرائیل کااحتساب کیا جائے: پاکستان کا سلامتی کونسل سے مطالبہ

بے لگام اسرائیلی بمباری کو جنگی جرائم قرار دیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان نے منگل کے روز غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کو روکنے میں ناکامی پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) پر تنقید کرتے ہوئے رکن ممالک سے کہا کہ ان تمام ذمہ داروں کا احتساب کریں جنہوں نے فلسطینی شہریوں اور رہائشی محلوں کو نشانہ بنا کر علاقے میں "جنگی جرائم" کا ارتکاب کیا ہے۔

اسرائیلی قبضے میں رہنے والے فلسطینیوں کی بگڑتی ہوئی حالت کے بدلے میں حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ایک غیرمتوقع حملہ کر دیا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر لیا اور فضائی حملے شروع کر دیئے۔

غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 5,791 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

شرقِ اوسط کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ منیر اکرم نے تنازع کو کم کرنے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا، "شہریوں، شہری اشیاء اور بنیادی ڈھانچے پر اسرائیلی حملے؛ پانی، ایندھن اور خوراک کی ناکہ بندی اور مقبوضہ علاقے سے لوگوں کی جبری منتقلی بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے مترادف ہے۔ ان ظالمانہ جرائم کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا، "پاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی مہم کا تسلسل مزید بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کا باعث ہو گا اور ایک وسیع اور زیادہ خطرناک تنازعہ کا محرک بن سکتا ہے۔"

اکرم نے پاکستان کی طرف سے مایوسی کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل نے تنازعہ کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کے جاری رہنے کا سبب بننے والوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے فلسطینی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے والوں پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے بات کو جاری رکھا، "قابض طاقت اسرائیل اور اس قبضے کے متأثرین فلسطینیوں کے درمیان غلط مساوات پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ برداشت ہے - قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر۔ پاکستان دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کرتا ہے۔ اس کے باوجود بین الاقوامی قانون کے تحت خود ارادیت اور قومی آزادی کے لیے غیر ملکی قبضے میں رہنے والے لوگوں کی جدوجہد جائز ہے اور اسے دہشت گردی سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔"

انہوں نے مزید کہا، "غیر قانونی تو اس جدوجہد کو دبانا ہے۔"

اکرم نے نوٹ کیا کہ استعماری طاقتوں نے ہمیشہ اپنی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر نے اپنے ارکان کو اپنے دفاع کا حق دیا ہے جبکہ یہ نشاندہی کی کہ ایک ریاست جو زبردستی کسی غیر ملکی سرزمین پر قابض ہو، وہ اس اصول کو ان لوگوں کے خلاف استعمال نہیں کر سکتی جن کی سرزمین پر اس نے قبضہ کر رکھا ہو۔

انہوں نے کہا، "اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے سے ارضِ مقدس میں امن قائم نہیں ہو گا۔ بین الاقوامی طور پر متفقہ دو ریاستی حل سے ہی پائیدار امن قائم ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں