شمالی پاکستان میں مارخور کے شکار کا اجازت نامہ ریکارڈ قیمت پر نیلام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

محکمہ جنگلی حیات، گلگت بلتستان نے گزشتہ دنوں خطرے سے دوچار جگلی حیات کو تحفظ دینے میں مقامی کمیونٹی کو شامل کرنے کیلئے 104 جانوروں کے ٹرافی ہنٹنگ پرمٹ نیلام کیے ہیں جس میں استور مارخور کے شکار کے لیے سب سے زیادہ مہنگا اجازت نامہ ریکارڈ 186,000 ڈالر میں نیلام ہوا۔

محکمہ جنگلی حیات کے ایک اہلکار کہا کہ نایاب مارخور اور دوسرے جانوروں کو مارنے کے لیے بھاری لائسنس فیس سے حاصل شدہ رقم ان دور دراز واقع علاقوں کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔

ٹرافی ہنٹنگ کا یہ پروگرام سب سے پہلے 1990 میں سابق ریاست کشمیر کے علاقہ گلگت بلتستن کی وادی نگر میں متعارف کرایا گیا تھا، جس نے بین الاقوامی شکاریوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو اس علاقے میں محدود تعداد میں جنگلی جانوروں کو نشانہ بنانے کے لیے ہر سال لاکھوں ڈالر ادا کر تے ہیں۔ اس پروگرام کو بعد میں مختلف شمالی علاقوں تک بڑھا دیا گیا۔

ٹرافی کے شکار کو دنیا بھر میں ایک متنازعہ مشق کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس میں کھیل کے لیے نایاب جانوروں کا شکار کرنا اور ان کے کھال وغیرہ کو ٹرافی کے طور پر محفوظ کرنا شامل ہے۔ تاہم جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ شمالی پاکستان میں ٹرافی ہنٹنگ پروگرام غیر قانونی شکار کو روکنے میں مدد دیتا ہے اور مقامی بستیوں میں رہنے والے باشندوں کو بااختیار بناتا ہے۔

مارخور عام طور پر 8,000-11,000 فٹ کی بلندی پر پائے جاتے ہیں، لیکن سردیوں کے مہینوں میں یہ 5,000-6,000 فٹ کے درمیان اترتے ہیں، جب شکار کا موسم شروع ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان کے محکمہ جنگلی حیات کے ایک کنزرویٹر خادم عباس نے عرب نیوز کو بتایا کہ انکے علاقے کیلئے پاس مارخور کے چار پرمٹ تھے اور سب سے زیادہ پرمٹ کارگاہ-ناپورہ-بیسن کے علاقے میں $186,000 میں نیلام کیا گیا۔"

حکام کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام سے حاصل ہونے والی رقم کا 80 فیصد مقامی کمیونٹیز کو جاتا ہے، جو اسے تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ٹرافی کے شکار کا سیزن یکم نومبر سے شروع اور 25 اپریل کو ختم ہوتا ہے۔ 2023-2024 کے سیزن کے لیے، جی بی حکومت نے چار استور مارخور، 12 نیلی بھیڑوں اور 88 آئی بیکس کے شکار کے اجازت نامے نیلام کیے تھے۔

عباس نے کہا کہ مارخور کے شکار کا دوسرا سب سے بڑا اجازت نامہ $181,000 میں فروخت ہوا، اس کے بعد ایک اور اجازت نامہ $177,000 میں فروخت ہوا۔ نیلی بھیڑوں کی بنیادی قیمت 9,000 ڈالر تھی۔ تاہم، ایک نیلی بھیڑ کے پرمٹ کی قیمت $26,000 اور $35,000 کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔

پاکستانی شکاریوں کے لیے، نیلی بھیڑوں کے پرمٹ کی سب سے زیادہ قیمت 1,800,000 روپے ($6,440) تھی، انہوں نے بات کیلئے تھی۔ ibex کے شکار کی سب سے زیادہ قیمت 1,100,000 روپے ($3,935) تھی جو مقامی کمیونٹیز اس رقم کو صحت اور ترقی کے شعبے کے علاقہ طلباء کو اسکالرشپ اور کمیونٹی کے ضرورت مند ممبران کو ایمرجنسی کی صورت میں یا چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے بھی فراہم کرتے ہیں۔

محکمہ وائلڈ لائف کے ایک اور اہلکار طارق حسین نے بتایا کہ گزشتہ سال مارخور کے شکار کے لائسنس کی سب سے زیادہ قیمت $165,000 تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام مقامی لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔

یونیورسٹی آف بلتستان کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کے سربراہ ڈاکٹر سالار علی نے عرب نیوز کو بتایا، ٹرافی ہنٹنگ پروگرام مقامی لوگوں میں آگاہی پھیلا رہا ہے اور وہ اپنے علاقوں میں جنگلی جانوروں کے غیر قانونی شکار پر قابو پانے کے لیے اپنا بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام شروع کرنے سے پہلے، مقامی لوگ خطرے سے دوچار جانوروں کے فراہم کردہ فوائد سے واقف نہیں تھے، انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت غیر قانونی شکار کی سرگرمیاں بھی عروج پر تھیں۔ اب ایک بار جب انہوں نے اس پروگرام سے آمدنی حاصل کرنا شروع کر دی، تو وہ ان جانوروں کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں