پاکستانی فری لانسرز کیلئے ادائیگی کے گیٹ وے سے زیادہ کمائی کے مواقوع میسر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مقامی فری لانسرز اب ایک فِنٹیک کمپنی کے گیٹ وے کے ذریعے گوگل پے اور ایپل پے جیسے عالمی صارفین کی طرف سے ادائیگی میں بغیرکسی کٹوتی کے اپنی آمدنی کا ایک بڑاحصہ کما سکتے ہیں۔

دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے خصوصی اقتصادی زون میں رجسٹرڈ کمپنی کی ذیلی ملکیت سدا پے نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کی سدا بِزاکائونٹ کے ذریعے اب فری لانسرز گوگل پے اور ایپل پے جیسے عالمی صارفین سے رقم کی ادائیگی کیلئے کرسکیں گے۔ اس طرح مقامی فری لانسرز اب عالمی طور پر دستیاب سات سو میلین موبائل ادائیگی کی ڈیوائسز سے منسلک ہوگئے ہیں۔

پاکستان میں بڑے عالمی ادائیگی کے نظام کی عدم موجودگی نے ملک کے فری لانسرز کے لیے اپنے عالمی صارفین کے ساتھ کام کرنا مشکل بنا دیا تھا۔ جسکی وجہ سے فری لانسرز کو ملازمتیں تلاش کرنے میں مشکلات، مالی طور پر منافع بخش کام کی غیرموجودگی، ادائیگی میں تاخیر، آن لائن خریداری کے لیے بینک اکاؤنٹ یا کریڈٹ کارڈ تک رسائی نہ ہونا یا 20 فیصد یا اس سے زیادہ پلیٹ فارم فیس کی ادائیگی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

سادا پے کے چیف آپریٹنگ آفیسر عمر سلیم اللہ نے عرب نیوز کو بتایا کہ کہ ان کی کمپنی کی طرف سے متعارف کروایا گیا نظام عمل واقعی سادہ ہے۔ جس سے سے اب فری لانسر سیکنڈوں میں ادائیگی کا لنک بنا کراپنے کلائنٹ کو بھیج سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انوائس کی ادائیگی ماسٹر کارڈ، ویزا، ایپل پے، یا گوگل پے سسٹم کے ذریعے کی جا سکتی ہے، اور یہ رقوم براہ راست صارف کے والیٹ میں دو سے تین کاروباری دنوں میں جمع کر دی جاتی ہیں۔

سلیم اللہ نے کہا کہ اس طرح پاکستانی فری لانسرز کو لاکھوں بین الاقوامی کلائنٹس تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی اور وہ ایکسچینج ریٹ پر ادائیگیوں کا فائدہ اٹھا سکیں گے جس سے وہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ برقرار رکھ سکیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک نئے رجحان کے طور پر پے پال کے 450 ملین صارفین کے مقابلے میں ایپل پے کے صارفین 550 ملین تک پہنچ گئے ہیں اور ایپل پے کے ذریعے ادائیگی کا حجم پے پال سے چار گنا زیادہ ہو گیا ہے۔

تاہم مقامی فری لاسنرز کیلئے ایک گیٹ وے کے قیام کے باوجود کچھ فنٹیک ماہرین نے پاکستان میں ان گیٹ ویز کی محدود قبولیت کا حوالہ دیتے ہوئے، حقیقی وقت میں لین دین کے لیے بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ ویز کو پاکستان کے بینکنگ سسٹم کے ساتھ براہ راست مربوط کرنے کا مطالبہ کیا۔

نوشاد منہاس، ولی فنانشل سروسز کے شریک بانی اور سی ای اوکے مطابق اس مثبت پیش رفت کے باوجودابھی ایپل پے کے انضمام میں ابھی بھی کچھ تاخیر دیکھی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ ویز مکمل طور پر مربوط ہو جاتے ہیں، تو رقوم براہ راست ڈالر کے کھاتوں میں بھیجی جا سکتی ہیں اور ریئل ٹائم میں پاکستانی روپے میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

منہاس نے کہا کہ یہ پیش رفت پھر بھی عالمی مارکیٹ میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی فری لانسرز کو فوری طور پر مستفید ہونے میں مدد دے گی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ فنڈز کا ممکنہ حجم جو فری لانسرز ایف ڈی آئی (غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری) یا ریورس کیپٹل فلائٹ کے طور پر پاکستان کے لیےحاصل کرتے ہیں اس کا تخمینہ $400 سے $500 ملین ہے۔

مہوش اسلم، بی سیکیورکی چیف بزنس آفیسرنے تبصرہ کیا کہ بین الاقوامی ادائیگی کے گیٹ ویز کے متعارف ہونے سے فری لانسرز کے لیے لین دین میں کافی مدد ملی ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے پاکستان کے مرکزی بینک کے حالیہ اقدامات کو سراہا جو بینکنگ سروسز تک بغیر کسی پریشانی کے رسائی ممکن بناتے ہیں اور صارفین کو آسانی سے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے قابل بناتے ہیں، خاص طور پر غیر ملکی کرنسی کے لین دین کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ ان ٹرانزیکشنز کو آسان بنانے کے لیے بین الاقوامی گیٹ ویز کے ساتھ تعاون، مقامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے لین دین کے حجم کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہےاور نئے صارفین کو راغب کرنے میں مدد دے گا۔

پاکستان کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دسمبر 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان انکی تعداد میں 88 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سلیم اللہ نے کہا، اس وقت پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ فری لانسرز ہیں۔ ہم اگلے چند سالوں میں اسے مزید 10 ملین بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ڈیجیٹل ٹیلنٹ عالمی سطح پر پاکستان کا سب سے اہم مسابقتی فائدہ بن سکتا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں