پاکستان ٹیلی کام ٹربیونل کے قیام سے اتصالات کے ساتھ برسوں پرانے تنازعے کے حل کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام سے متعلق تنازعات کے جلد حل کے لیے ترجیحی طور پر اٹھائے جانے والے قدم کے طور پر ایک خصوصی عدالت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے اماراتی ٹیلی کام کمپنی اتصالات کے ساتھ 800 ملین ڈالر کی ادائیگی کے تنازعہ کے حل کی امید بھی روشن ہو گئی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نگراں وزیر ڈاکٹر عمر سیف نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ٹیلی کام سے متعلق تنازعات کے جلد حل کے لیے حکومت اگلے دو ہفتوں کے اندر ایک خصوصی عدالت قائم کرے گی۔ ان کے مطابق، پاکستانی ٹیلی کام شعبہ کے لیے یہ اپیلیٹ ٹریبونل مقدمات کے بغیر کسی رکاوٹ اور تیزی سے فیصلے میں معاون ثابت ہو گا اور ملک میں عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ کم کرنے میں مدد دے گا۔

یہ مجوزہ ٹریبونل ٹیلی کام شعبہ کے اسٹیک ہولڈرز کو خاص طور پر ایسے مقدمات میں تیزی سے انصاف فراہم کرنے میں مدد دے گا جو برسوں سے زیر التوا ہیں۔

عمر سیف نے کراچی میں ایک تقریب کے موقع پر عرب نیوز کی پاکستان اور اماراتی ٹیلی کام کمپنی اتصالات کے درمیان 2005 سے جاری تنازع سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انکی حکومت اصلاحات اور عدالتوں میں تنازعات اور مقدمات کے حل کے لیے ٹیلی کام ٹربیونل قائم کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹریبونل ایک آرڈیننس کے ذریعے تشکیل دیے جانے کی تجویز ہے۔

ہمیں امید ہے کہ یہ ٹربیونل اگلے دو ہفتوں میں قائم ہو جائے گا۔ جو کہ ایک خصوصی عدالت ہو گی جہاں ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والوں کے تنازعات کو حل کیا جائے گا تاکہ ان مقدمات کی کاروائی تاخیر کا شکار نہ ہوں۔

اس ٹربیونل کے قیام سے پاکستانی حکومت اور متحدہ عرب امارات کی قائم ٹیلی کام سروس اتصالات کے درمیان تقریباً دو دہائیوں پرانے تنازعہ کو حل کرنے میں مدد ملے گی جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کے800 ملین ڈالر کی ادائیگی کا کیس بھی ہے۔

اتصالات کے ایک کنسورشیم نے 2005 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص 2.6 بلین ڈالر میں خریدے تھے جس سے اماراتی ٹیلی کام کو اکثریتی ووٹنگ کے حقوق مل گئے تھے۔ اتصالات نے معاہدے کے مطابق ابتدائی 1.80 بلین ڈالر ادا کیے۔ اس معاہدے کے تحت حکومت سے جائیدادوں کی ملکیت پی ٹی سی ایل کو منتقل کرنا بھی شامل تھا۔ اسے 133 ملین ڈالر کی چھششماہی اقساط میں بقیہ $800 ملین کی ادائیگی کرنی تھی، تاہم امارات کی ٹیلی کام کمپنی نے پی ٹی سی ایل کی جائیدادوں میں سے تقریباً 34 کی ملکیت کے تنازعہ کی وجہ سے ادائیگی روک دی تھی۔

پاکستانی حکام ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ ان جائیدادوں کی ملکیت کی پیچیدگیوں کی وجہ سے انہیں نجکاری کی ڈیل کے تحت اتصالات کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے بدلے ان جائیدادوں کی قیمت اتصالات کی واجب الادا رقم سے منہا کر دی جائے گی۔ لیکن مختلف مسائل کی وجہ سے یہ تنازعہ 2005 سے حل نہ ہو سکا۔

سیف نے ٹریبونل کے قیام کو حکومت کی طرف سے ایک ''بڑا قدم'' قرار دیا اور کہا کہ اس تجویز کو مختصر وقت میں عملی جامہ پہنانے کہ کوشش کی جا رہی ہے جس سے حکومت کو ٹیلی کام خدمات کے شعبہ کے لیے ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ ملک میں 5G خدمات اگلے آٹھ ماہ کے اندر اندر شروع کر دی جائیں گی۔

سیف نے کہا کہ حکومت میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اعلان کیا تھا کہ 5G سروس 10 ماہ میں شروع کی جائے گی، اس لیے دو مہینے گزر چکے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ سروس نیلامی کے ذریعے آٹھ ماہ میں شروع کر دی جائے گی۔

وزیر نے کہا کہ 5G نیلامی کے لئے ایک بین وزارتی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دے دی ہے، جبکہ کنسلٹنٹس اس عمل کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

سیف نے کہا انکی وزارت نے 5G سروسز کے آغاز، ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کے معاملات، مطلوبہ خدمات میں بہتری، اور لوگوں کو معیاری خدمات فراہم کرنے کے بارے میں عالمی تجربات کی روشنی میں لائحہ عمل طے کیا ہے اور ان کے لیے حکومتی سطح پر جو بھی اقدامات درکار ہیں وہ تیز رفتاری سے کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ آئی ٹی کمپنیوں کو اپنی آمدنی کا 50 فیصد ڈالر اکاؤنٹس میں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جب کہ انہیں بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے بینکوں کے ذریعے کارپوریٹ ڈیبٹ کارڈ بھی فراہم کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں