گورنر اسٹیٹ بنک کا چینی کرنسی کے استعمال کو فروغ دینے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ بیرونی تجارتی لین دین اور سرمایہ کاری کے لیے چینی کرنسی رین من بی (RMB) کا استعمال دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور مالیاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

گورنراسٹیٹ بنک آف پاکستان اسلام آباد میں انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (آئی سی بی سی) کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے جو پیپلز بینک آف چائنا کو پاکستان میں آر ایم بی کے کلیئرنگ ایجنٹ کے طور پر نامزدگی کے حوالے سے منعقدہ کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ مغربی کرنسی یورو کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چینی کرنسی اس وقت دنیا میں ڈالر کے بعد بیرونی تجارت کے لئے دوسری سب سے ذیادہ استعمال کرنے والی کرنسی بن چکی ہے۔جنوبی ایشیائی ممالک بشمول بنگلہ دیش اور بھارت بھی اب ڈالر کے بعد رین من بی، جس کا بنیادی یونٹ یوآن کہلاتا ہے، کو ترجیحاَ استعمال کر رہے ہیں۔

ایشیا میں مشرق وسطی اور مشرق بعید کے متعدد ممالک پہلے ہی بیرونی تجارت کیلئےچینی کرنسی کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ اسی ہفتے چین نے جنوب مشرقی ایشائی ملک لاؤس میں کرنسی کے کلیئرنگ ہاؤس کا افتتاح کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور قطر بھی تجارتی لین دین کے لیے اسے استعمال کر رہے ہیں۔ ادھر پاکستان روس سے تجارت بھی چینی کرنسی میں کر رہا ہے۔

اپنی تقریر میں جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) چین کے ساتھ خصوصی اقتصادی تعلقات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تجارت اور سرمایہ کاری کے لین دین میں چینی کرنسی کے استعمال کو آسان بنانے کے لیے ملک میں مطلوبہ ریگولیٹری فریم ورک نافذ کر دیا ہے۔ جس کے تحت اب کاروباری برادری نہ صرف چینی کرنسی میں بیرونی تجارت کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کھول سکتی ہے بلکہ اس فریم ورک کے تحت RMB میں سرمایہ کاری کی سہولیات بھی حاصل کر سکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ اس نئے فریم ورک کے نافذالعمل ہونے کے بعد پاکستان میں ضوابط کے لحاظ سے، RMB کا استعمال دیگر بین الاقوامی کرنسیوں جیسے کہ امریکی ڈالر، یورو اور جاپانی ین کے برابر ہو گیا ہے۔ اب پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبے دونوں دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے کرنسی کے طور پر RMB کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

چین کے ساتھ تجارت میں RMB کے استعمال کے فروغ کیلئے مرکزی بینک کی کوششوں کے نتیجے میں چینی کرنسی میں تجارت مالی سال 2018کے دو فیصد کے مقابلے میں 2022 کے دوران تقریباً 18 فیصد تک پہنچ گئیں ہیں۔

سٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ بینک چینی کرنسی کے فروغ کیلئے اپنے صارفین کو RMB میں لین دین کرنے کے لیے چین میں ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرکے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی کاروبار ی حضرات چینی مارکیٹ کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کریں گے اور زیادہ مسابقتی بنیادوں پر RMB میں تجارت کرنے کے فوائد کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مرکزی بینک دونوں ممالک کے صارفین اور کاروبار کے باہمی فائدے کے لیے چین کے ساتھ اقتصادی اور مالیاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پالیسی اور ریگولیٹری مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں