پاکستان میں بہتر زرعی پیداوار کے باعث اقتصادی شرح نمو میں اضافے کی پیش گوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

نگراں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں بہتر زرعی پیداوار کے باعث 2سے3 فیصد کی شرح سے اقتصادی ترقی میں بڑھوتری کی امید ہے۔

پاکستان کی معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہے اور اس میں دو سے تین فیصد کی شرح نمو متوقع ہے جس کی بڑی وجہ ملک میں زرعی پیداوارمیں بہتری ہے۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہی۔ وزیر خزانہ نے نگران حکومت کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کیلئے تازہ ترین اعداد وشمار کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی حالت میں بہتری اس امر کے باوجود دیکھی جا رہی ہے کہ انہوں نے سخت مالی حالات میں اس وزارت کا چارج سنبھالا تھا۔

صحافتی نمائندوں سے گذشتہ روز ہونے والی اس گفتگو کااہتمام عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے وفد کے دورے سے چند روز قبل کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ دو نومبر کو تین بلین ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت مجموعی اقتصادی جائزہ کے لیے شروع ہونے والا عمل اس سلسلے میں آئی ایم ایف کاپہلا مشن ہے۔

معیشت کی بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بازارحصص میں تیزی دیکھی گئی ہی جو کہ ایک تبدیلی ہے۔ اس کے علاوہ معاشی ترقی کے اعداد شمار اور مثبت اعشاریے ابھر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ زرعی پیداوار میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ صنعتی سرگرمیوں میں قدرے سست روی دیکھی گئی ہے لیکن اگر زرعی پیداوار میں بہتری اسی طرح رہی تو ہماری قومی شرح نمو 2 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کہ توقع ہے۔

یاد رہے کہ اس ماہ کے شروع میں، ورلڈ بینک نے پاکستان کی موجودہ مالی سال میں شرح نمو 1.7 فیصد تک رہنے کی پیشین گوئی کی تھی جو کہ ملکی آبادی میں اضافے کی شرح سے بھی کم ہے۔پاکستان کو حالیہ برسوں میں متعدد مالی مشکلات اور اقتصادی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں زرمبادلہ کے کم ذخائر، بڑھتی ہوئی افراط زر اور کرنسی کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر شامل ہیں۔

وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ ورلڈ بینک کا شرح ترقی کا تخمینہ قدرے زیادہ محتاط طور پر لگایا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت زراعت اور خدمات کے شعبوں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے جس سے قومی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مالی سال کے دورن اگست میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کےشعبہ میں گزشتہ سال کی نسبت2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ بہتری گذشتہ 14 ماہ میں پہلی باردیکھی گئی ہے۔جبکہ جولائی اور ستمبر کے درمیان برقی پیداوار میں 7.4 فیصد اور ٹریکٹرز کی پیداوار میں 45 فیصد کا اضافہ دیکھاگیا ہے۔

شمشاد اختر نے کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیکس وصولی بھی ہدف سے تجاوز کر گئی ہے جس کا تعین وفاقی بجٹ کی تیاری کے موقع پر آئی ایم ایف کے مشورے سے کیا گیا تھا۔

وزیر خزانہ نے صحافیوں کو بتایا کہ انکی حکومت نے پہلی سہ ماہی کے دوران آئی ایم ایف پروگرام پر مؤثر طریقے سے عمل کیا ہے۔ ہم آئی ایم ایف کے وفد کو بتائیں گے کہ ہم قرض پروگرام پر عمل کے حوالے سے صحیح سمت گامزن ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں