تقریباً 50 دن کی قید کے بعد جنوب مغربی پاکستان کے دو مقامی فٹبالرز کی گھر واپسی

فٹبالرز کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا، چھے مغوی کھلاڑیوں میں سے آخری دو بھی گھر واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک سرکاری اہلکار نے تصدیق کی کہ گذشتہ ماہ اغوا کیے گئے دو مقامی فٹبالرز تقریباً 50 دن قید میں گذارنے کے بعد اتوار کی صبح جنوب مغربی پاکستان کے علاقے میں اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔

9 ستمبر کو جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں پاکستان کے گیس فیلڈ (گیس کے ذخائر والا علاقہ) سے نامعلوم مسلح افراد نے چھ مقامی فٹبالرز کو اغوا کر لیا تھا۔

29 ستمبر کو بلوچستان حکومت نے تصدیق کی کہ سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی کے پہاڑوں سے چار فٹبالرز کو بازیاب کر لیا تھا۔ محمد یاسر بگٹی، سہیل بگٹی، فیصل بگٹی اور عامر بگٹی بازیاب ہو گئے جبکہ (اس وقت تک) شیراز بگٹی اور بابر علی بگٹی لاپتہ تھے۔

بلوچستان کے نگراں وزیرِ اطلاعات جان اچکزئی نے عرب نیوز کو بتایا، "ڈیرہ بگٹی میں کمیونٹی رہنماؤں نے دو لاپتہ فٹبالرز کو بازیاب کرالیا ہے۔ لیکن ہمارے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ انہیں عسکریت پسندوں کی قید میں رکھا گیا تھا۔"

ڈیرہ بگٹی میں لیویز کنٹرول روم میں تعینات ایک سپاہی جاوید بگٹی نے تصدیق کی کہ شیراز بگٹی اور بابر علی بگٹی اتوار کی صبح "نامعلوم افراد" کی طرف سے رہا ہو جانے کے بعد اپنے گھروں کو آ پہنچے۔

جاوید بگٹی نے عرب نیوز کو بتایا، "ہمیں اس جگہ کا علم نہیں جہاں انہیں رہا کیا گیا لیکن ان کے اہلِ خانہ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ وہ گھر واپس آ گئے ہیں۔"

 فٹ بالرز شیراز بگٹی اور بابر علی بگٹی 29 اکتوبر 2023 کو ڈیرہ بگٹی، پاکستان میں اپنے گھروں کو واپسی کے بعد۔ (تصویر بشکریہ: بازیاب شدہ فٹبالرز کے اہل خانہ)
فٹ بالرز شیراز بگٹی اور بابر علی بگٹی 29 اکتوبر 2023 کو ڈیرہ بگٹی، پاکستان میں اپنے گھروں کو واپسی کے بعد۔ (تصویر بشکریہ: بازیاب شدہ فٹبالرز کے اہل خانہ)

پاکستان کے گیس سے مالا مال صوبہ بلوچستان کی ایران اور افغانستان کے ساتھ ایک غیر محفوظ سرحد ملتی ہے اور یہ علاقہ تقریباً دو عشروں سے بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے نچلی سطح کی شورش کا منظر پیش کر رہا ہے۔ علیحدگی پسند کہتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف لڑ رہے ہیں جو ان کی نظر میں وفاق کی جانب سے صوبے کی دولت کا غیر منصفانہ استحصال ہے جبکہ پاکستانی ریاست اس بات کی تردید کرتی ہے۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز علیحدگی پسندوں کے حملوں کا مرکزی نشانہ رہی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں انہوں نے چینی مفادات پر بھی ضرب لگائی ہے جس کی وجہ خطے میں بیجنگ کی بڑھتی ہوئی اقتصادی موجودگی اور اس کے اثرات ہیں۔

ضلع ڈیرہ بگٹی کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر نے تادمِ تحریر عرب نیوز کے بارہا رابطے کے باوجود سوالات کا جواب نہیں دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں