جنوب مغربی پاکستان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی جاں بحق

دو شدت پسند ہلاک، دو زخمی؛ پاک فوج ’دہشت گردی کی لعنت‘ کے خاتمے کے لیے پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فوج کے میڈیا ونگ نے اتوار کو بتایا کہ پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو فوجی جاں بحق اور دو عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان کے ضلع آواران میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو عسکریت پسند ہلاک جب کہ دو زخمی ہو گئے۔

فوج کے میڈیا ونگ نے کہا۔ "تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران نائب صوبیدار آصف عرفان (عمر 37 سال، ساکن ڈسٹرکٹ اوکاڑہ) اور سپاہی عرفان علی (عمر 22 سال، ساکن ڈسٹرکٹ سرگودھا) نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔"

آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں دیگر عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے علاقے کی تطہیر کا عمل کیا۔

فوج نے کہا، "سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔"

بلوچستان کی ایران اور افغانستان کے ساتھ غیر محفوظ سرحد ہے اور یہ علاقہ طویل عرصے سے نچلی سطح کی شورش کا میدان بنا ہوا ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کا مؤقف ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کے خلاف لڑ رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

بلوچستان میں پاکستان اور چین مشترکہ طور پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ریاست اور پاکستانی طالبان کے درمیان گذشتہ سال ایک نازک جنگ بندی معاہدہ ختم ہو جانے کے بعد اس صوبے میں کام کرنے والے متعدد مسلح اور علیحدگی پسند گروہوں نے حملے تیز کر دیئے ہیں۔

ستمبر میں بلوچستان میں بھی ایک بڑا خودکش حملہ ہوا جس میں مستونگ میں ایک مذہبی اجتماع کو نشانہ بنایا گیا اوراس میں تقریباً 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں