سینیٹ کا اسرائیلی مظالم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری جنگ بندی پر زور

پاکستان فلسطین کے حوالے سے دنیا کو بامعنیٰ اقدامات اٹھانے کی درخواست کرے: ممبران سینٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی مجلس شوری کے ایوان بالا [سینیٹ آف پاکستان] نے بے گناہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مظالم پرتشویش ظاہر کرتے ہوئے فوری جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ ایوان نے آزاد فلسطین کے قیام کی حمایت اورانصاف کیلئے عالمی اداروں کی ضرورت کا اعادہ کیا ۔

فلسطین میں موجود صورتحال پر بحث کے لیے خصوصی اجلاس بلایا گیا تھا اورایوان نے قاعدہ 218 کے تحت ایک تحریک پر بحث شروع کی جو تمام سیاسی جماعتوں کے سینیٹرز کی جانب سے مشترکہ طورپر پیش کی گئی تھی۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد ایوان اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بربریت ہے، گذشتہ 23 دنوں سے فلسطینیوں کا قتل عام اور نسل کشی ہو رہی ہے، وہ صرف مسلم امہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس مشکل کی گھڑی میں پوری مظلوم فلسطینی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اظہار ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں، غزہ پر اندھا دھند اسرائیلی بمباری کی سخت مذمت کرتے ہیں، اس میں ہزاروں شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، 20 ہزار سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہیں۔ کہ غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور نسل کشی امت مسلم اور ساری دنیا کیلئے تشویش کا باعث ہے ۔

غزہ میں اسرائیلی مظالم کی پرزور مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کو او آئی سی سمیت مختلف فورم پر فلسطینی عوام کے لیے مضبوط آواز اٹھانی چاہیے۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ عالمی برادری کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرناچاہیے ۔

شہزاد وسیم نے کہا کہ اسرائیل نے خود کو غاصب اور دہشت گرد ریاست ثابت کیا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کا کوئی لحاظ نہیں رکھتا۔ انسانی حقوق تنظیموں کی خاموشی پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کو غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنی چاہیے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ ہسپتال جیسی تنصیبات سمیت غزہ پر اسرائیلی بمباری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ علی ظفر نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اورکہاکہ اقوام متحدہ کو فلسطین اور کشمیر دونوں مسائل کے حل کیلئے آگے بڑھنا چاہیے۔

عبدالغفور حیدری نے کہاکہ اسلامی تعاون تنظیم کے ملکوں کو فلسطینی عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مشتاق احمد نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

منظور احمد نے کہا کہ مسلمان ملکوں کو فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرنی چاہیے۔ طاہر بزنجو نے کہاکہ اسرائلی فلسطینی تنازع کا واحد پرامن حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔

ایوان کا اجلاس بعد ازاں کل بروز منگل سہ پہر ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار اور بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر منظور کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ کر فلسطین کی صورتحال پر بحث کے لیے اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی جس کی سینٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ حمایت کی تھی۔

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو تین سے زائد ہفتے گزر چکے ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں امت مسلمہ کی جانب سے فلسطین کے حق میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی مظاہرے جاری ہیں اتوار کو جماعت اسلامی اور مجلس وحدت مسلمین کی خواتین کی جانب سے اسرائیلی مظالم کے خلاف اسلام آباد میں ایک بڑے مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں