سینیٹ آف پاکستان نے اسلامی ممالک سے اسرائیلی سفیروں کو نکالنے کا مطالبہ کر دیا

ارکان سے ایک ماہ تنخواہ عطیہ کرنے کا مطالبہ؛ سینیٹ کے تحت فلسطین امدادی فنڈ قائم کیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سینیٹ میں ارکان نے متعلقہ اسلامی ممالک سے ارکان نے اسرائیلی سفیروں کو نکالنے کا مطالبہ کر دیا اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اسلامی ممالک نے اسرائیلی سفیروں کو بے دخل کر دیا تو مسئلہ فلسطین حل ہو جائے گا۔ ’’حماس کے رہنما ابو عبیدہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں غزہ میں جگہ جگہ نعشیں پڑی ہیں۔ طاقت کے نشے میں دھت اسرائیل خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو کم از کم فلسطینی بچوں اور ماؤں کے لیے اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔‘‘

دوسرے روز بھی ایوان بالا میں فلسطین کی صورتحال پر بحث کا سلسلہ جاری رہا قرار داد کی تیاری کے لیے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مختلف جماعتوں کے ارکان مشاہد حسین سید، شیری رحمان ، مشتاق احمد خان اور دیگر پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی ہے۔

غزہ کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ حماس کے رہنما ابو عبیدہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں مسلم ممالک اسرائیلی سفیروں کو نکال دیں تو مسئلہ فلسطین حل ہو جائے گا۔ سینیٹر قرة العین مری نے کہا کہ سکولوں مساجد ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور غزہ میں پانی بجلی بند ہے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا حماس فلسطین کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے جو اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کی مزاحمت کر رہی ہے۔ جنگی جرائم الفاظ کم ہیں اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کر رہا ہے۔ لندن ،پیرس ، برلن دنیا کے ہر ملک میں مسلمان عیسائی ہندو سب فلسطین میں جاری ظلم و جبر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

کشمیر فلسطین میں مقبوضہ فورسز کی مزاحمت ہو رہی ہے اور اس جائز آزادی کی تحریکوں کو اقوام متحدہ عالمی کنونشن کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ مغرب اور یورپ کے پارلیمان کو خطوط لکھنے چاہئیں ترکیہ کے صدر کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں انہوں نے استنبول میں ملین مارچ کی قیادت کی۔ پارلیمانی وفد کو فلسطین کا دورہ کرنا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر محسن عزیز نے کہا ظلم جبر بے رحمی کی انتہا ہو گئی ہے اور ایک بے بسی کی داستان ہے۔ خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے آٹھ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 18 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ بشمول بچے لا پتہ ہیں۔ ہسپتالوں میں علاج کی جگہ نہیں رہی۔ غزہ میں جگہ جگہ نعشیں پڑی ہیں ۔اصل میں مردہ وہ ہیں جن کی آواز بند ہے۔ بچے کٹ مر رہے ہیں عرب ممالک اب بھی اسرائیل سے تجارت اور سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کے لیے پریشان ہیں ۔

ایک طرف خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے دوسری طرف تجارت اور ضمیر بک رہا ہے اور عرب ممالک کی یہ خاموشی لمحہ فکریہ ہے ان پر بھی یہ نوبت آ سکتی ہے نوبل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسف زئی غزہ کے بچوں کے لیے کیوں خاموش ہیں اپنی آواز بلند کریں ارکان سینیٹ کو عطیات دینے چاہئیں اور میں اپنی بساط کے مطابق مالی امداد کیلئے تیار ہوں۔ تمام ارکان ایک ایک ماہ کی تنخواہ فلسطینیوں کے امدادی فنڈ میں دیں اور سینٹ آف پاکستان میں فلسطین امدادی فنڈ قائم کیا جائے۔

سینیٹر ڈاکٹر مہر تاج نے کہا کہ اب تو شہید ماؤں اور بچوں کی تصاویر بھی نہیں دیکھی جاتی ایک قبر میں دو بچے دفن کئے جا رہے ہیں ۔ پاکستانی ڈاکٹرز کی ملک گیر تنظیم نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کو خط لکھا ہے۔ ہماری ان تقاریر سے دل کی بھڑاس تو نکل جائے گی مگر فلسطینیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا امریکا بدمعاش ہے اور اس کا بچہ اسرائیل بدمعاش ہے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ غزہ میں دل ہلا دینے والے مناظر ہیں شہادتوں کے حوالے سے غیر معمولی اعداد و شمار ہیں ان میں ہزاروں بچے شامل ہیں۔ عالمی تنظیم سیف دی چلڈرن نے رپورٹ دی ہے کہ بے دردی سے بچوں کو مارا جا رہا ہے اور اصل نمبرز کا پتہ نہیں ہے ۔ یہ ہماری اجتماعی شرمندگی کا باعث ہے اور نہ امدادی سامان جا رہا ہے۔ جیل میں بھی قیدیوں کے حقوق ہوتے ہیں۔ غزہ کو اموات کی جیل بنا دیا گیا اور جمع کر کر کے فلسطینیوں کو مارا جا رہا ہے۔ ہسپتالوں کو خالی کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ اسرائیل نے جنیوا کنونشن کی دھجیاں بکھیر کر کے رکھ دی ہیں۔ حکمرانوں کے دلوں ذہنوں پر اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کا سنگین نتیجہ برآمد ہو گا اور یہ جنگ جاری رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں مظاہرین سے سڑکیں بھر گئی ہیں نسل کشی کے خطرات اثرات مرتب ہوں گے اور آہستہ آہستہ سب اس کو محسوس کریں گے۔ محصورین کا معاملہ ہے غیر مشروط جنگی بندی ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں