پاکستان سموگ کے پھیلاؤ کا مسئلہ بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی حکومت بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے معاملے کو ہندوستان کے ساتھ اٹھائے گی، جو کہ انتہائی مضر صحت اسموگ کے پھیلاؤ کا سبب اور پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص پنجاب میں فضائی آلودگی پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں ہوا کا معیار بین الاقوامی سطح پر طے کئے گیے اور قومی ماحولیاتی معیارات سے انتہائی ذیادہ ہے. ان زہریلی گیسوں میں صنعتوں ، گاڑیوں اور تعمیرات کا اہم کردار ہے. اس کے ساتھ ساتھ اینٹوں کے بھٹوں اور فصلوں کی باقیات جلانے کے عمل کا فضائی آلودگی بڑھنے میں کلیدی کردار ہوتا ہے-

پاکستان سے ملحقہ بھارتی علاقوں میں فصلوں کی باقیات کو بڑے پیمانے پر جلانے کے عمل سے ہر سال اکتوبر اور فروری کے درمیان سموگ کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ یہ دھواں ہوا میں صحت کیلیے انتہائی مضر ذرات کی سطح بڑھانے کے باعث جان لیوا بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے. اور پاکستانی پنجاب اور دوسرے علاقوں میں سموگ کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔

سرحد سے قریب ہونے کی وجہ سے لاہور کے باسی خاص طور پر ہر سال اکتوبر کے آغاز سے زہریلی گیسوں کے شکار ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے صوبائی دارالحکومت مسلسل دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے. منگل کو یہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 337 تھا جو عالمی فضائی معیار سے چھ گنا ذیادہ تھا-

سموگ کا یہ مسئلہ لاہور اور پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دیگر علاقوں میں صحت کے سنگین مسائل اور حادثات کا سبب بنتا ہے، جہاں لوگ سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں خراش کی شکایت کرتے ہیں، اور حکام اکثر حد نگاہ صفر ہونے کی وجہ سے موٹر ویز کے ذریعے سڑک کے سفر پر پابندی لگادیتے ہیں۔

رواں ہفتے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو بریفنگ کے دوران پنجاب کے وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے درخواست کی کہ سموگ کے معاملے کو وزارت خارجہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا جائے۔

اس حوالے سے وزیر اعظم کی ہدایت کی روشنی میں وزارت خارجہ کو خط لکھا جائے گا کہ وہ اس معاملے پر سفارتی سطح پر یہ مسئلہ اٹھانے کیلیے بھارت سے رابطہ کرے.
محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کا کہنا ہے کہ سرحد کے اس جانب، خاص طور پر لاہور میں سموگ کی بڑی وجہ بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات کو جلانا ہے۔ جس کی وجہ سے دھویں کی سطح بڑھ گئی ہے اور اس کا اثر پورے لاہور پر ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ کے پی آر او نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان اس معاملے پر بھارت سے رابطہ کرے گا. سابق وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر 2017 میں اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھا تھا اور اس مسئلے سے نبٹنے پر زور دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں