ریاض فوڈ ایکسپومیں پاکستان پویلین کاجوش وخروش،پکوان کے عالمی منظر کو گویا ٹڑکا لگادیا

پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب سے شاندار کاروباری مواقع ملنے کی توقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار نے جمعرات کو کہا کہ ریاض میں 31 اکتوبر کو اختتام پذیر ہونے والی تین روزہ بین الاقوامی خوراک نمائش میں ان کے ملک کے پویلین کو زبردست پذیرائی ملی اور یہ پاکستانی مصالحہ جات اور دیگر اجزاء کی بھرپور تعریف کا سبب بنا۔

اِن فلیور ایکسپو 2023 نے معروف بین الاقوامی باورچیوں، کھانا پکانے کی عالمی صنعت کے سرخیل اور سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد کو مجتمع کیا تاکہ خوراک کی حفاظت اور زرعی پائیداری جیسے اہم چیلنجوں پر تبادلۂ خیال کریں۔ اس کا مرکزی موضوع "سیکیورنگ ابینڈنٹ ٹوموروز" یعنی وافر تعداد والے کل کو محفوظ کرنا تھا۔

سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے اشتراک سے اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اور اس میں 400 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی جنہوں نے تقریب میں آنے والے لوگوں کے ساتھ دنیا بھر سے اختراعی پکوان اور کھانے کی مصنوعات کا اشتراک کیا۔

پاکستانی سفیر احمد فاروق نے عرب نیوز کو بتایا، "پاکستان کی تیرہ کمپنیوں نے اس تقریب میں شرکت اور اپنی مصنوعات کی نمائش کی جس میں اعلیٰ معیار کے اناج، گوشت، مصالحہ جات، نامیاتی مصنوعات، مشروبات، خوردنی تیل، اچار اور تازہ مصنوعات شامل تھیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ان فلیور نمائش میں شرکت کرکے خوشی ہوئی۔ پاکستانی کمپنیوں کو زبردست ردِعمل ملا اور وہ پاکستانی فوڈ پروڈکٹس کی تعریف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔"

سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق (بائیں) 29 اکتوبر 2023 کو ریاض، سعودی عرب میں ایکسپو 2023 میں پاکستانی اسٹال کا دورہ کر رہے ہیں۔ (بشکریہ: ریاض میں پاکستانی مشن)
سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق (بائیں) 29 اکتوبر 2023 کو ریاض، سعودی عرب میں ایکسپو 2023 میں پاکستانی اسٹال کا دورہ کر رہے ہیں۔ (بشکریہ: ریاض میں پاکستانی مشن)

سفیر نے بتایا نمائش اچھے طریقے سے منعقد کی گئی تھی جو تقریب میں شامل ہر فرد کے عزم اور پیشہ ورانہ مہارت کی عکاس تھی۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ان کا ملک سعودی عرب کو خور و نوش کی مصنوعات اور مشروبات کی ایک اہم منڈی کے طور پر دیکھتا ہے۔

فاروق نے کہا، "جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سعودی عرب کے ویژن 2030 میں زراعت اور خوراک کی صنعت کی ترقی ایک اہم ترجیح ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔"

انہوں نے کہا پاکستان بھی اپنی خوراک و زراعت کی صنعت میں اصلاحات اور تنظیمِ نو کر رہا ہے۔ اور مزید کہا اس شعبے میں سعودی عرب کے ساتھ اشتراک اور وسیع البنیاد تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا، "میں مزید پاکستانی کمپنیوں کو سعودی عرب کا دورہ کرنے اور ایسی نمائشوں میں شرکت کی ترغیب دوں گا کیونکہ یہ نہ صرف دونوں ممالک کی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا بھی کام کرتا ہے۔"

لاہور میں قائم سیفی گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو نصیب احمد سیفی گذشتہ 18 سالوں سے مملکت میں منجمد حلال گوشت کی مصنوعات برآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے ایکسپو میں اپنے تجربے کو فائدہ مند قرار دیا۔

 پاکستانی فوڈ کمپنی کا ایک نمائندہ 29 اکتوبر 2023 کو ریاض، سعودی عرب میں ہونے والی ایکسپو 2023 میں مہمانوں کو مصنوعات کے بارے میں بتا رہا ہے۔ (بشکریہ: نصیب احمد سیفی)
پاکستانی فوڈ کمپنی کا ایک نمائندہ 29 اکتوبر 2023 کو ریاض، سعودی عرب میں ہونے والی ایکسپو 2023 میں مہمانوں کو مصنوعات کے بارے میں بتا رہا ہے۔ (بشکریہ: نصیب احمد سیفی)

انہوں نے کہا، "اِن فلیور ایکسپو میں ہماری شرکت انتہائی کامیاب تجربہ ثابت ہوئی کیونکہ ہمیں سعودی عوام کی جانب سے زبردست مثبت ردعمل ملا۔ ہم ایونٹ کے دوران اپنی مصنوعات کے لیے کئی نئے کلائنٹس تیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔" اور مزید کہا سعودی عرب پوری دنیا کے لیے ایک پرکشش مارکیٹ بن گیا ہے۔

فیصل آباد میں واقع کسان فوڈز میں بین الاقوامی کاروبار کی نگرانی کرنے والے سید فرحان نے کہا کہ ان کی تنظیم نے نمائش میں آنے والوں کی طرف سے کافی توجہ حاصل کی۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ ہماری پاکستانی کمپنیوں کے لیے ایک شاندار اور قابلِ قدر نمائش تھی کیونکہ ہمیں سعودی مارکیٹ سے ایک امید افزا ردعمل ملا جو پاکستانی مصنوعات کی وسیع صلاحیت کی نشاندہی کرتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں