سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لئے وفاقی حکومت بڑے منصوبوں پر کام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وفاقی حکومت نے تین بلین ڈالر کے 21 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔

پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی نے گذشتہ دنوں کہا کہ غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے بری طرح متاثر علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کی کوشش کے طور پران منصوبوں کو پایا تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

واضح رہے کہ اگست 2022 میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے آنے والے سیلاب نے وسیع علاقے کو انتہائی نقصان پہنچایا تھا۔ جس سے 1,700 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں ایکڑ پر لگی فصلیں تباہ اور لا تعداد مویشی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس قدرتی آفت کی وجہ سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان کے علاوہ گھروں کوے پہنچنے والے نقصان سے ملک کے کئی حصوں میں لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے۔ پاکستان نے اس سیلاب سے تقریباً 30 ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔

اس ہولناک تباہی کے بعد تعمیر نو کی کوششوں کے طور پر وفاقی منصوبہ بندی کی وزارت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں رفاحی تنظیموں، اور بین الاقوامی اور قومی این جی اوز کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور شراکت کے لیے ایک جامع 4RF (پر عزم کوشش، بحالی، بہتری اور تعمیر نو) کا فریم ورک وضع کیا تھا۔

اس فریم ور ک کے تحت منظور کئے جانے والے منصوبوں کے حوالے سے وزارت منصوبہ بندی نے کہا کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 2022 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے جنیوا میں کیے گئے وعدوں کیکی روشنی میں تین بلین ڈالر کے 21 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

وزارت نے کہا کہ ان منصوبوں کو پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں کامیابی سے انجام دے رہی ہیں۔ مزید براں ان ترقیاتی منصوبوں کی مالی اعانت عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک نے کی ہے۔

وزارت نے کہا کہ 2022 کے سیلاب سے سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے تھے۔ وزارت کے مطابق ان ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے بارے میں فوری معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک ڈیش بورڈ 10 نومبر تک فعال ہو جائے گاجو کہ عوام اور ترقیاتی شراکت داروں کی موثر طور پر نگرانی یقینی بنانے میں مددگار ہو گا۔

رواں سال جنیوا میں سیلاب سے متعلق امدادی سرگرمیوں اور منصوبوں کے لیے کثیر جہتی اور دو طرفہ عطیہ دہندگان نے 10 بلین ڈالر کے امدادی وعدے کیے تھے۔

نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے اس سال ستمبر میں کہا تھا کہ پاکستان وعدوں کے مطابق ڈونرز سے 10 بلین ڈالر کے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ تباہ کن سیلاب سے بحالی کے لیے تعمیر نو کے منصوبے شروع کیے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں