پاکستان کے صوبہ سندھ کی غزہ بحران کے دوران فلسطینی طلباء کو مالی امداد کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ غزہ کے جاری بحران کی روشنی میں پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کی حکومت نے اپنے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فلسطینی طلباء کو ٹیوشن فیس سے مستثنیٰ کر دیں، ہاسٹل چارجز معاف کر دیں اور وظیفہ اسکالرشپ فراہم کریں۔

ملک میں فلسطینی سفارتی مشن کے مطابق ان میں سے 300 سے زائد طلباء اس وقت پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں میں داخل ہیں جن میں سے 50 سندھ کے سرکاری تعلیمی اداروں میں ہیں۔

مشن نے مزید کہا کہ تاریخی طور پر 50,000 سے زائد فلسطینی شہریوں نے پاکستانی تعلیمی اداروں سے گریجویشن کیا ہے۔ تاہم کئی لوگوں کو جو اس وقت ملک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، غزہ پر اسرائیل کی شدید بمباری کے بعد آہستہ آہستہ اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے جس نے ایک ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں 10,000 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے اور علاقے کو مکمل تباہ کر دیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کے میڈیا مشیر عبدالرشید چنا نے عرب نیوز کو فون پر بتایا۔ "نگراں وزیرِاعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے سندھ کے سرکاری تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم فلسطینی طلباء کو ٹیوشن فیس اور ہاسٹل واجبات سے مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فلسطین کے بحران کے پیشِ نظر حکام کو انہیں وظائف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "صوبے میں کل 50 فلسطینی طلباء زیرِ تعلیم ہیں جن میں سے زیادہ تر میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں ہیں۔"

صوبائی حکام کی طرف سے سرکاری تعلیمی ادارے کو ارسال کردہ ایک نوٹیفکیشن جو عرب نیوز کے پاس دستیاب ہے، اس کو ایک فوری معاملہ قرار دیتا ہے جسے اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

چنا نے کہا کہ ہدایات پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے کیونکہ مختلف یونیورسٹیوں نے طلباء کو اس کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

جامشورو، سندھ میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کی طرف سے زیرِ گردش ایک دستاویز میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ٹیوشن فیس اور ہاسٹل واجبات معاف کرنے اور 13 فلسطینی طلباء کو وظیفہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں