کےایس ریلیف کی طرف سے پاکستان کےپنجاب میں سیلاب سےمتأثرہ افرادمیں 4,000شیلٹرکٹس تقسیم

ایجنسی کی تقسیم کردہ امداد سے چھوٹے اضلاع کے سیلاب متأثرین کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شاہ سلمان انسانی امدادی مرکز نے بدھ کے روز پاکستان کے گنجان آباد ترین صوبہ پنجاب کے رہائشی لوگوں کو 4,000 شیلٹر کٹس فراہم کرنے کے ایک منصوبے کی کامیاب تکمیل کا اعلان کیا جو ملک میں حالیہ سیلاب سے شدید متأثر ہوئے تھے۔

سعودی ایجنسی کے پاس دنیا بھر میں کسی بھی امدادی ایجنسی کے لیے دستیاب سب سے بڑے انسانی بجٹ میں سے ایک ہے۔ یہ بجٹ تنظیم کے عہدیداروں کو 80 سے زیادہ ممالک میں وسیع اقسام کے منصوبے شروع کرنے کے قابل بناتا ہے۔

پاکستان کے ایس ریلیف کی امداد اور انسانی سرگرمیوں سے مستفید ہونے والا پانچواں بڑا ملک ہے اور اس نے گذشتہ سال کے مون سون سیلاب کے بعد سے ایجنسی کی امداد سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ اس سیلاب میں 1,700 افراد ہلاک ہوئے تھے اور مختلف شہروں میں فصلوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا تھا۔

امدادی ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، "کے ایس ریلیف کے شیلٹر[غیر خوراک اشیاء] پروجیکٹ نے پنجاب، پاکستان کے سب سے زیادہ متأثر ہونے والے چار اضلاع تک اپنی رسائی کو [بڑھا دیا ہے] جہاں کمیونٹیز کو سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان اضلاع میں قصور، وہاڑی، لیہ اور راجن پور شامل ہیں۔"

اس نے مزید کہا گیا۔ "یہ ہنگامی امدادی منصوبہ سال 2023-2024 کے کے ایس ریلیف کے شیلٹر منصوبے کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ان کٹس میں 4,000 شیلٹر، 4,000 سولر پینل، 4,000 کچن سیٹ، 4,000 پلاسٹک کی چٹائیاں اور 8,000 کمبل ان جامع امدادی کوششوں کے حصے کے طور پر شامل ہیں۔"

بیان میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کو مقامی انتظامیہ کے تعاون سے نافذ کیا گیا اور اس سے چاروں اضلاع کے 28,000 سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔

کے ایس ریلیف نے پاکستان میں تعلیم، صحت کی نگہداشت، پانی، صحت و صفائی، حفظانِ صحت اور کمیونٹی سپورٹ سے متعلق 170 منصوبے مکمل کیے ہیں جن پر 2015 میں ایجنسی کے قیام کے بعد سے مجموعی طور پر تقریباً 163 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں