پاکستان جنوبی ایشیاء میں ادائیگی کے عدم توازن میں کس نمبر پر ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے کہا ہے کہ کم برآمدات اور براہراست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے رجحان کے باعث پاکستان اور سری لنکا جنوبی ایشیاءمیں ادائیگیوں کے عدم توازن کے بحران ممالک میں سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

اپنی تازہ رپورٹ میں موڈیز نے کہا کہ ویسے تو پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور بھارت سبھی ممؒالک کی برآمدات ان کی متعلقہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)کے مقابلتاً بہت کم ہیں اور یہاں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم بھی تھوڑا ہے۔ لیکن پاکستان اور سری لنکا اس حوالے سے سب سے ذیادہ متاثر ہیں۔

موڈی کے مطابق جنوبی ایشیاء کے یہ ممالک عالمی ویلیو چین سے اچھی طرح سے مربوط نہیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہاں کی منڈیوں میں تجارتی کھلے پن کے نہ ہونے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی کم سطح جنوبی ایشیائی ممالک کومختلف بحرانوں کا شکار ہونے کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے ۔ جبکہ اس سے طویل مدت ترقی کے امکانات بھی معدوم ہوجاتے ہیں ، جو سماجی بحران کے خطرات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان اور سری لنکا چار متذکرہ بالا خودمختار ممالک میں سب سے زیادہ ادائیگی کے عدم توازن کا شکار ہیں۔

ان دونوں ممالک کی کمزور پالیسی مینجمنٹ اور ذیادہ سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ برآمدات میں کمی اور خاطر خواہ غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے بروقت ادائیگیاں دبائو کا شکار رہی ہیں۔

موڈیز نے کہا کہ ہندوستان اپنے بڑے اور متنوع برآمدی شعبے کی وجہ سےادائیگیوں کے بحران کا سب سے کم شکار ملک ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ میکرو اکنامک پالیسی کا بہتر انتظام ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محدود تجارتی پالیسیاں اور ناقص انفراسٹرکچر بھی ان ممالک کے برآمدی شعبے میں رکاوٹ بننے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا میں بھارت کے مقابلے انفراسٹرکچر کمزور ہے، جس سے تجارتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔مزیدبراں محدود تجارتی معاہدوں کے باعث جنوبی ایشیائی ممالک کی دیگر ممالک تک مارکیٹ رسائی پھیلائو سے قاصرہے۔

موڈیز نے کہا کہ کم تجارتی کشادگی یقنی طور پر ترقی کرنے اور ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرے گی جس سے سماجی خطرات میں اضافہ ہو گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی منڈیوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے کم مواقعوں سے چاروں جنوبی ایشائی ممالک متاثر ہوں گے۔

لیکن بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کو سری لنکا کے مقابلے میں زیادہ چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ ان ممالک کو ذیادہ جوان افراداور بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے ہر سال قابل ذکر تعداد میں ملازمتیں پیدا کرنے کی اضافی ضرورت ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک کو اپنی برآمدی صلاحیت کو حاصل کرنے کے لیے مشکل اصلاحات پر طویل مدت کیلئے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہو گی۔

موڈیز نے کہا کہ ان کے تجزیہ کے مطابق کم اور درمیانی مدت میں جنوبی ایشیائی ممالک اپنی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت پر آمادہ نظر نہیں آتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں