ملک بدری کی مہم کے دوران کراچی میں خواتین کےزیرِانتظام افغان کیفے کا غیر یقینی مستقبل

غیر دستاویزی افراد کی ملک بدری کے فیصلے کے بعد سترہ لاکھ افغانوں کا مستقبل غیر یقینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کراچی کے قلب میں واقع ایک پررونق گلی کے ہنگامے میں شبانہ آغا نے ماہرانہ طریقے سے ایک کیفے میں سنیکس تیار کیے جو ان جیسی مہاجر خواتین کے لیے ایک جائے پناہ بن گیا ہے۔

پورے کے پورے خواتین پر مشتمل اس کچن کیفے کا آغاز ایک گمنام مقامی غیر منافع بخش تنظیم نے افغان مہاجر خواتین کی مدد کے لیے کیا تھا۔ لیکن اب وہاں کے باورچی اور کارکنان روزانہ اپنے اور کیفے کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا شکار رہتے ہیں کیونکہ حکام بے دخلی کی مہم کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کو پکڑ رہے ہیں۔

3 اکتوبر کو پاکستان نے اعلان کیا کہ غیر دستاویزی تارکینِ وطن یکم نومبر تک رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دیں یا ملک بدری کا سامنا کریں۔ افغان اس منصوبے سے سب سے زیادہ افغان افراد متأثر ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان میں مقیم کل چالیس لاکھ میں سے تقریباً 1.7 ملین افغانوں کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔

یکم نومبر سے اب تک دسیوں ہزار افغان پاکستان چھوڑ چکے ہیں جب کہ کئی دیگر بالخصوص خواتین اس لیے روپوش ہو گئے ہیں کیونکہ انہیں اپنے وطن میں طالبان انتظامیہ کے تحت ظلم و ستم کا خوف ہیں۔

کیفے کی ایک شیف شبانہ آغا نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم آٹھ افراد کا خاندان ہیں،" اور کہا کہ وہ کیفے کی دیگر کارکنوں کی طرح پاکستان میں رہنے والے اپنے افغان خاندان کی واحد کفیل ہیں۔

عرب نیوز نے کارکنوں کی شناخت کے تحفظ کے لیے کیفے کے نام کے ساتھ ساتھ اس کا مقام بھی ظاہر نہیں کیا ہے۔ افغان خواتین کے تمام نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔

آغا نے مزید کہا، "موجودہ صورتِ حال کی وجہ سے ہمیں اور غیر دستاویزی افراد کو بالخصوص پولیس کی ہراسانی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ہمارے لیے سونا اور سکون سے رہنا مشکل ہو گیا ہے۔"

اور افغانستان میں آغا کو مزید غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے جہاں خواتین کو زیادہ تر ملازمتوں سے منع کیا جاتا ہے، وہ ہائی اسکول اور یونیورسٹی نہیں جا سکتیں اور صرف ایک مرد محافظ کے ساتھ سفر کر سکتی ہیں۔

آغا سے جب پوچھا گیا کہ وہ افغانستان واپسی کے امکان کے بارے میں کیسا محسوس کرتی ہیں تو انہوں نے کہا، ہر کوئی "بہت دباؤ کا شکار" ہے۔

آغا نے کہا کہ وہ افغان کھانوں میں مہارت رکھنے والے کیفے میں شامل ہونے سے پہلے تین سالوں تک اپنی کھانا پکانے کی صلاحیتوں کو نکھارتی رہیں جس کا آغاز گھر میں پکا ہوا کھانا بنانے سے ہوا۔ اس افغان ریستوران کے پاس آغا کے علاوہ دو باورچی ہیں جو اَشک، مومو، افغانی پلاؤ، منٹو اور بولانی جیسے لذیذ افغان پکوان پیش کرتے ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں کیفے میں آنے والی گاہک آصفہ احمدی نے کہا، "افغان کھانا واقعی بہترین ہے۔ جن لوگوں نے یہ نہیں کھایا ہے، انہیں یہ ذائقہ آزمانا چاہئے۔ میں نے پاکستان میں مختلف جگہوں پر کھانا کھایا ہے لیکن ایسا لذیذ کھانا کہیں اور نہیں ملا۔ یہ لذیذ ہے۔"

آغا کی مدد کرنے والی ایک رجسٹرڈ پناہ گزین نسیمہ قاسم نے کہا کہ ان کے پاس پاکستان میں رہنے کے لیے درست دستاویزات ہیں تو وہ ملک بدری کے خطرے سے مستثنیٰ ہونے کی بنا پر مطمئن ہیں لیکن انہوں نے کریک ڈاؤن کے وسیع تر اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا کیونکہ کئی دستاویزی افغانوں نے بھی ہراسانی اور گرفتاریوں کی شکایت کی ہے۔ وہ اس بات سے بھی پریشان تھیں کہ کیفے کو بند کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے جس سے سرگرم باورچیوں کا روزگار متأثر ہو گا۔

انہوں نے کہا، "ہم اپنے بچوں کی تعلیم سمیت اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے تندہی سے کام کرتے ہیں۔ وہ سب کو نکال کر افغانستان بھیج رہے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں ہے کہ ایسی صورتِ حال میں کیا کرنا ہے۔"

آغا جسے ملک بدری کے خطرے کا سامنا ہے، کے لیے افغانستان میں عوامی زندگی کے ختم ہونے کا خطرہ بالکل حقیقی ہے۔

انہوں نے کہا، "اگر ہم افغانستان واپس چلے گئے تو مجھے ڈر ہے کہ میں یہ پیشہ جاری نہیں رکھ سکوں گی۔ افغانستان کے حالات کی وجہ سے میرے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ اگر میں واپس چلی گئی تو مجھے نہیں معلوم کہ [ہمارے ساتھ] کیا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں