پاکستانی فلم ’ان فلیمز‘ ریڈ سی فلم فیسٹیول میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تیار

خواتین کی زیرِقیادت بیانیے پر مبنی فلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستانی فیچر فلم "ان فلیمز" اس ماہ کے آخر میں ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شمولیت کے لیے تیار ہے تو اس کی مرکزی اداکاراؤں نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے اعلیٰ سطحی فلمی میلے کے لیے خواتین کے مسائل پر مبنی کہانی کا انتخاب ازخود ایک پیش رفت کا مظہر ہے اور امکان ہے کہ یہ خطے کی خواتین ناظرین میں ایک گہرا احساس اور جذبہ پیدا کرے گی۔

اس سال کے شروع میں مئی میں "ان فلیمز" 43 سالوں میں دوسری پاکستانی فلم ہے جس نے ڈائریکٹرز فورٹ نائٹ میں جگہ بنائی جو ایک ایسا ایونٹ ہے جو معروف کانز فلم فیسٹیول کے متوازی چلتا ہے۔ گذشتہ ماہ یہ فلم آزادانہ طور پر پاکستان کے جنوبی کراچی شہر کے ایٹریئم سینماز میں 12 روزہ نمائش کے لیے پیش کی گئی جسے بعد میں 9 نومبر تک بڑھا دیا گیا تھا۔

"ان فلیمز" پاکستان کی ان دو فیچر فلموں میں سے ایک ہے جو 30 نومبر سے 9 دسمبر تک جدہ، سعودی عرب میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

فلم میں ایک ماں فریحہ کا کردار ادا کرنے والی بختاور مظہر نے رواں ماہ کے شروع میں عرب نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا، "شرقِ اوسط جس طرح خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنی پوزیشن بنا رہا ہے، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔"

انہوں نے بات کو جاری رکھا۔ "دیگر فلمی میلوں کے مقابلے میں یہ فلم ریڈ سی فلمی میلے میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ خواتین پر مبنی فلم۔ یہ ایک بیانیہ ہے۔ میرے خیال میں ریڈ سی بھی ان فلموں کو منتخب کر کے یہاں کوئی پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔"

مظہر نے اس پیش رفت کو نہ صرف فلم بلکہ پاکستان کے لیے بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا، سعودی عرب میں ہونے والا فیسٹیول اسی طرح کی عالمی فلمی صنعت کی تقریبات کے مقابلے میں نسبتاً نیا ہے اگرچہ یہ تین سال کے مختصر عرصے میں بڑے ستاروں اور بامعنی مواد کی حامل فلموں کو مجتمع کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

انہوں نے "ان فلیمز" کو ایک نفسیاتی تھرلر کے زمرے میں رکھا جو خاندان کے مرد سرپرست کے کھو جانے کے بعد ایک ماں اور اس کی بیٹی کی جدوجہد پر مبنی ہے۔ ایوارڈ یافتہ کینیڈین-پاکستانی فلمساز ضرار خان کی تحریر اور ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کو انعم عباس نے پروڈیوس کیا ہے۔

نو آموز اداکارہ رمیشا نوال جنہوں نے "ان فلیمز" سے اپنی اداکاری کے آغاز کے لیے آڈیشن دیا، انہوں نے اس فلم میں فریحہ کی بیٹی مریم کا کردار ادا کیا۔ اپنے خاندان میں سب سے بڑی بیٹی ہونے کے ناطے انہوں نے اس کردار میں کافی اپنائیت محسوس کی۔

نوال نے عرب نیوز کو بتایا، "اگرچہ اس فلم کی شوٹنگ کراچی میں کی گئی لیکن دنیا بھر کی خواتین [فلم دیکھنے کے بعد] رو رہی تھیں اور وہ گویا ایسا محسوس کرتی تھیں، ہم جانتی ہیں کہ یہ کردار کس جدوجہد سے گذرا، ہم فریحہ اور مریم کی جدوجہد کو جانتی ہیں۔"

انہوں نے کہا وہ واقعی پرجوش ہیں کہ فلم ریڈ سی میلے میں شریک ہونے جا رہی ہے اور مزید کہا سعودی فلمی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے جس نے پاکستانی سینما کو ان سے تعاون کرنے کا زبردست موقع فراہم کیا۔

اگلے سال 96 ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے غیر ملکی زبان کی فلم کیٹیگری کے تحت "ان فلیمز" پاکستان کی باضابطہ پیشکش بھی ہے۔ کانز ڈائریکٹرز فورٹ نائٹ کے علاوہ فلم نے گذشتہ چند مہینوں میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول اور وینکوور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سمیت متعدد بین الاقوامی فلمی میلوں میں جگہ بنائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں