پاکستان سے تین ہزار کنٹینرز کو چھڑانے کے لیے افغانستان کا اصرار

افغان وزیر کی وزیر خارجہ پاکستان سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغان حکام نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی بندرگاہ پر روکے گئے 3000 کنٹینرز کو چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ افغانستان پہنچ سکیں اور افغان تاجروں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

دوسری جانب پاکستان کا موقف ہے کہ بغیر ڈیوٹیوں کے بھاری مقدار میں سامان افغانستان جانے سے پاکستان کا دوہرا نقصان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ اس سامان پاکستان کی بندر گاہ سے باہر بغیر ڈیوٹیز کے جاتا اور دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دوبار سمگل ہو کر پاکستان پہنچ جاتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بعض دوسرے تنازعات میں ایک یہ تنازعہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ طالبان کی حکومت آنے کے بعد بھی اس معاملے میں بہتری نہیں خرابی ہے۔ اس بارے میں افغان وزیر برائے صنعت و تجارت نورالدین عزیزی نے پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات کر کے انہیں باور کرایا ہے کہ ان ہزاروں کنٹینرز کو چھوڑ دیا جائے۔

پشاور میں افغان قونصل خانے نے بھی اپنے تاجروں کے کراچی بندر گاہ پر پڑے تباہ جانے کے خدشہ کا اظہار کیا ہے۔ ان کنٹینرز میں کئی ایک سال سے رکے ہوئے ہیں اور ان کے اندر سامان بھی خراب ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

ادھر اسی ماہ غیر اندراج شدہ افغان شہریوں کو جبراً واپس بھیجنے کے حکومتی فیصلے پر بھی کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ تاہم اب اس تاریخ میں توسیع ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں