کینیڈا: سیاسی پناہ کی لچکدار پالیسی پی آئی اے کے ملازمین کے لاپتا ہونے کی وجہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن(پی آئی اے) نے دو سال کے اندر کینیڈا میں اپنے آٹھ ملازمین کے لاپتا ہونے کا ذمہ دار غیر ملکیوں کو پناہ دینے کی لچکدار پالیسی کو قرار دیا ہے۔

اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ میں پچھلے ہفتے پاکستان کی قومی ائرلائن پی آئی اے کے دو فلائٹ اٹینڈنٹ کینیڈا جانے والی پرواز میں ٹورنٹو پہنچنے کے بعد غائب ہو گئے تھے. گذشتہ دنوں ایئر لائن کے ترجمان نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے آٹھ ملازمین گزشتہ دو سالوں کے دوران شمالی امریکہ کی ریاست میں اس کی لچک کی حامل آزادانہ پناہ دینے کی پالیسی کی وجہ سے لاپتا ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں، غیر قانونی طریقوں سے معاشی حالات میں بہتری کے لیے یورپ اور شمالی امریکہ کے ترقی یافتہ ممالک تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اس سال جون کے اوائل میں یونان کے قریب 750 غیر قانونی تارکین کو لے جانے والی یک بڑی کشتی ڈوب گیا، جن میں 350 پاکستانی بھی شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد مقامی حکام نے یونان کی حکومت کے ساتھ انسانی اسمگلروں کے خلاف تعاون بڑھانے کیلئےاور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔

کینیڈا میں پی آئی اے کے ملازمین کی حالیہ گمشدگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں بہتر ملازمتوں کے حامل نوجوانوں میں بھی ملک سے باہر جانے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ائر لائن کے دو فلائٹ اٹینڈنٹ پروازکے ٹورنٹو پہنچنے پر غائب ہو گئے اور فلائٹ کی واپسی کے مقررہ وقت پر ڈیوٹی کے لیے نہیں پہنچے. فلائٹ اٹینڈنٹس خالد محمود اور فدا حسین 10 نومبر کو پی کے 772 پر اسلام آباد سے کینیڈا گئے تھے، لیکن وہ ٹورنٹو سے پرواز کے روانہ ہونے سے قبل واپس رپورٹ کرنے میں ناکام رہے۔

ایئر لائن نے کینیڈا میں مقامی حکام کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کیا اور اپنے لاپتہ ملازمین کے خلاف محکمانہ تحقیقات کا آغاز کیا جو ان کی خدمات کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے کیبن کریو کے چار ارکان گذشتہ برس اسی طرح غائب ہوئے تھے، جبکہ مزید چار 2023 میں غائب ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ کینیڈا کی حکومت کی طرف سے حد سے زیادہ لچکدار سیاسی پناہ دینے کا پروگرام ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم عام طور پر ایسے افراد کی پی آئی اے کے لئے خدمات کو ختم کر دیتے ہیں.

پاکستانی میڈیا نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایئر لائن نے کینیڈا اور یورپی ممالک کا سفر کرنے والے فلائٹ اٹینڈنٹ کے لیے سخت ضابطے نافذ کیے ہیں۔ان ضوابط میں کیبن کریو کے ارکان کے لیے 50 سال سے زیادہ عمر کی حد مقرر کرنا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں