پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ پہلے جائزے میں عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا ہے اور ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے 70 کروڑ ڈالر جاری کردیے جائیں گے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ (ایس بی اے) کے تحت پہلے جائزے پر عملے کی سطح پر معاہدہ طے پایا گیا جو ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری پر پاکستان کی 70 کروڑ ڈالر تک رسائی ہو گی۔

آئی ایم ایف نے بتایا کہ ناتھن پورٹر کی سربراہی میں وفد نے دو نومبر سے 15 نومبر 2023 تک اسلام آباد کا دورہ کیا تاکہ آئی ایم ایف کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کے تحت پاکستان کے معاشی پروگرام کے پہلے جائزے پر مذاکرات کیے جائیں۔

اعلامیے کے مطابق ناتھن پورٹر نے دورے کے اختتام پر بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستانی حکام کے ساتھ تین ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت پہلے جائزے پر عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری کے بعد 70 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے اور پروگرام کے تحت جاری رقم مجموعی طور پر تقریباً 1.9 ارب ڈالر ہو جائے گی۔

آئی ایم ایف کے وفد کی نگراں وزیراعظم سے ملاقات

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ریذیڈنٹ نمائندہ مس ایستھر پیریز نے آج بروز بدھ اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں اسٹینڈ بائے معاہدے (SBA) کے پہلے جائزہ کے تحت حکومتی ٹیم کے ساتھ تکنیکی سطح پر ہونے والے مذاکرات کی صورتحال سے آگاہ کیا۔

ناتھن پورٹر نے پروگرام کے سہ ماہی اہداف کو پورا کرنے میں حکومت پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں تکنیکی سطح پر بات چیت کا مثبت نتیجہ نکلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں نے SBA کے مختلف پہلوؤں پر وسیع تناظر میں بات چیت کی ہے۔ انہوں نے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم اور گورنر اسٹیٹ بینک کے ساتھ ان کی ٹیم کے کردار کو سراہا۔

وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ جاری کام پر آئی ایم ایف کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور وزیر خزانہ و محصولات کی قیادت اور پروگرام کو آگے بڑھانے میں ان کی ٹیم کے تعاون کی تعریف کی۔ انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیر اعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ متفقہ اصلاحاتی کوششوں کے لیے حکومت کے مستقل عزم کا اعادہ کیا جس کا مقصد طویل مدت میں پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

ملاقات میں میں نگران وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

اس سے قبل آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت 3 ارب ڈالر کی دوسری قسط کے اجرا کا معاہدہ رواں ہفتے ہونے کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ 29 جون کو آئی ایم ایف اور پاکستان نے ملک کا معاشی بحران کم کرنے کے لیے عملے کی سطح پر 3 ارب ڈالر اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ کیا تھا۔

اس معاہدے کا پاکستان کو طویل عرصے سے انتظار تھا جس کی ڈولتی معیشت ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کا سامنا کر رہی تھی۔

آئی ایم ایف کے مشن کی پاکستان کے نگران وزیر اعظم سے اسلام آباد میں ملاقات: فوٹو پی ایم آفس
آئی ایم ایف کے مشن کی پاکستان کے نگران وزیر اعظم سے اسلام آباد میں ملاقات: فوٹو پی ایم آفس

تقریباً آٹھ ماہ کی تاخیر کے بعد ہونے والا یہ معاہدہ جولائی کے وسط میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط تھا۔

معاہدے کے تحت 13 جولائی کو عالمی مالیاتی فنڈ سے پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہو گئی تھی جب کہ اس جائزے کے بعد مزید 70 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی۔

نو ماہ پر محیط تین ارب ڈالر کی فنڈنگ پاکستان کے لیے اس وقت توقع سے زیادہ تھی کیونکہ ملک 2019 میں طے پانے والے 6.5 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے بقیہ ڈھائی ارب ڈالر کے اجرا کا انتظار کر رہا تھا، جس کی میعاد پہلے ہی ختم ہو گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں