فیض آباد دھرنا کمیشن سابق آرمی چیف، وزیر اعظم کو بلا سکتا ہے: چیف جسٹس

اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا اور کمیشن کے ٹی او آرز بھی عدالت میں پڑھ کر سنائے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
12 منٹ read

وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تین رکنی انکوائری کمیشن کی تشکیل کانوٹیفکیشن عدالت میں پیش کردیا۔نوٹیفکیشن اٹارنی جنرل بیرسٹرمنصور عثمان اعوان کی جانب سے پیش کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے ریٹائرڈ آئی جی پولیس اختر علی شاہ کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے، تین رکنی کمیشن میں سابق آئی جی پولیس اسلام آباد طاہر عالم خان اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ خوشحال خان بھی شامل ہیں۔ جبکہ عدالت نے نوٹیفکیشن میں درستی کے لئے اٹارنی جنرل کو ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔ اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لئے دو ماہ کا وقت دیا جائے جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی۔ جبکہ عدالت نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدکی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی۔

عدالت نے سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کی جانب سے کمیشن پر اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ ہم قیاس آرائیوں پر بات نہیں کریں گے پہلے کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرے پھر کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے، ہم قانون کی عدالت ہیں ہم قیاس آرائیوں پر نہیں چلتے،60روز بعد پتا چل جائے گا ہم خدشات پر نہیں چلیں گے، کام شروع بھی نہیں کیا اور پہلے ہی شک کردیں، امید ہے60روز سابق چیئرمین پیمرا کی بات غلط ثابت ہو گی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ کمیشن اگر کسی کو طلب کرتا ہے اورہ شخص پیش نہیں ہوتا توکمیشن اس کے وارنٹ گرفتار ی جاری کر کے اس کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے شیخ رشید احمد اور سیکرٹری دفاع کے توسط سے حکومت پاکستان کی جانب سے فیض آباد دھرنا کیس میں دائر نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی۔

حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل بیرسٹر منصور اعوان عدالت میں پیش ہویے۔ جبکہ دوران سماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اپنے وکیل سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ کے ہمراہ پیش ہوئے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن پیش کیا۔ بینچ کی ہدایت پر اٹارنی جنرل نے نوٹیفکیشن پڑھ کرسنایا۔ کمیشن کے ٹی او آرز میں کہا گیا ہے کہ انکوائری کمیشن قیام کے دو ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا، انکوائری کمیشن ٹی ایل پی کی غیر قانونی مالی امداد کرنے والوں کی تحقیقات کرے گا، کمیشن فیض آباد دھرنے کے حق میں بیان اور فتویٰ دینے والوں کے خلاف ایکشن تجویز کرے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیشن تعین کرے گا کہ کوئی پبلک آفس ہولڈر قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب تو نہیں ہوا، انکوائری کمیشن فیض آباد دھرنے کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن تجویز کرے گا۔ اس کے علاوہ انکوائری کمیشن پیمرا رولز کی خلاف ورزی کرنے والے کیبل آپریٹرز اور براڈ کاسٹرز کے خلاف تحقیقات کرے گا، کمیشن میڈیا اور سوشل میڈیا پر نفرت اور تشدد پھیلانے کی جانچ اور اس سے بچا کی تجاویز دیگا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق کمیشن تعین کرے گا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں، سرکاری ملازم یا اشخاص فیض آباد دھرنے میں ملوث ہیں، کمیشن پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھرنوں، ریلیوں، احتجاج سے نمٹنے کی تجاویز بھی دے گا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کمیشن میں شمولیت کے لئے ارکان کی رائے بھی لی گئی ہے کہ نہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ رائے لی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دو باتیں ہوسکتی ہیں یا تو کمیشن آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہو سکتا ہے یا پھر یہ ٹرینڈ سیٹر بھی ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا نوٹیفکیشن کے آخری فقرے میں ترمیم کریں گے یا نہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہو جائے گی۔

دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید احمد کے وکیل سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس لئے بلایا کہ آپ کی غیر موجودگی میں نظرثانی درخواست خارج کرکے آپ کے حقوق کی خلاف ورزی نہ کر دیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ سب ایک ہی دن اچانک ساری نظرثانی درخواستیں آ جاتی ہیں، آپ کو بھی کسی سے ہدایات ملی تھیں کہ درخواست دائر کردو۔

’’اس حوالے سے ایک کمیشن بھی بنا ہے، یہ مذاق نہیں، پاکستان مذاق نہیں سارے پاکستان کو سرپرنچایا۔ واپس لینا ٹھیک بات ہے جو غلطی ہے ہمیں بتائیں سرکار بھی کہتی تھی کہ نظرثانی پڑی ہوئی ہے، سماعت کے لئے مقرر کیوں نہیں ہوئی، ہم بھی قابل احتساب ہیں، جو مرضی کیس لگا دو اور جو مرضی نہ لگائو، کیوں کوئی سچ بولنے کو تیار نہیں، آج کل کی بات نہیں بلکہ یہ درخواست سات مارچ 2019 کو دائر ہوئی تھی، عدالتیں درپردہ مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہوں گی، ہمارے سامنے جو چیزیں آئیں ہم نے لکھ دیں۔ کیا سپریم کورٹ بھی باہر سے کنٹرول ہورہی تھی، ایسے نظام کو مینی پولیٹ نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے نظرثانی کی درخواست آخر دائر ہی کیوں کی تھی۔‘‘

اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کو کچھ غلط فیصلے میں آئی ایس آئی کی رپورٹ میں نام آنے پر فہمی ہو گئی تھی اس لیے درخواست دائر کر دی۔ چیف جسٹس نے یہ نہیں ہو گا کہ اوپر سے حکم آیا ہے تو نظرثانی دائر کر دی، سچ سب کو پتہ ہے بولتا کوئی نہیں کوئی ہمت نہیں کرتا۔ وکیل شیخ رشید نے کہا کہ آج کل تو سچ بولنا اور ہمت کرنا کچھ زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آج کل کی بات نہ کریں ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں، یہ معاملہ مذاق نہیں ہے، پورے ملک کو آپ نے سر پر نچا دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کوئی مذاق نہیں جب چاہے درخواست دائر کی جب دل کیا واپس لے لی، نظر ثانی درخواستیں اتنا عرصہ کیوں مقرر نہیں ہوئی یہ سوال ہم پر بھی اٹھتا ہے، کیا سپریم کورٹ کو اس وقت کوئی عدالت سے باہر کی قوتیں کنٹرول کر رہی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے ہم خود قابل احتساب ہیں، نظرثانی کی درخواست آجاتی ہے پھر کئی سال تک لگتی ہی نہیں، پھر کہا جاتا ہے کہ فیصلے پر عمل نہیں کیا جارہا، کیونکہ نظرثانی زیر التوا ہے۔چیف جسٹس نے شیخ رشیدکے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ اب بھی یہ سچ نہیں بولیں گے کہ کس نے نظرثانی کا کہا تھا،کس کے کہنے پر درخواست دائر کی؟

اس پر شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ نظر ثانی درخواست دائر کرنے کے لیے مجھے کسی نے نہیں کہا تھا، وکیل کی جانب سے غلط مشورہ دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو ایم این اے رہ چکے اور وزیر رہ چکے وہ تو ذمہ دار ہیں نہ، جلائو، گھیرائو کا کہتے ہیں تو اس پر کھڑے بھی رہیں نہ، کہیں نا کہ ہاں میں نے حمایت کی تھی، اپنے مقاصد کے لئے معاشرے میں نفرتیں بڑھانا اور پھر کھڑے بھی نہیں ہوتے اور بھاگ جاتے ہیں، ملک کو دنیا میں مذاق بنادیا، بڑے، بڑے بیان دیتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں، نہ ملک کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ سچ بولیں گے۔

رسول ۖنے فرمایا کہ مومن اورسب کچھ ہوسکتا ہے لیکن مومن جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ کس چیز کا خوف ہے، مزید ملک کی خدمت کرنے کا موقع ملے تو کیاپھر ملک کی خدمت کریں گے یا نہیں کریں گے؟شیخ رشید نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس انہیں بولنے سے روک دیا اور کہا کہ وکیل بات کررہے ہیں۔ شیخ رشید سے چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ آپ سے نہیں پوچھ رہے آپ کے وکیل سے پوچھ رہے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شیخ رشید ایک سینئر پارلیمنٹرین ہیں، آپ کے حوالے سے عدالت نے کچھ نہیں کہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر شیخ رشید کا آئی ایس آئی کی رپورٹ میں ذکر تھا پھر ان کے خلاف کارروائی کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اعجاز الحق بھی آئے تھے اور ہم نے معاملہ نمٹا دیا۔ عدالت شیخ رشید کی درخواست واپس لینے بنیاد پر خارج کر دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ساڑھے چار سال گزر گئے ساٹھ دنوں میں دیکھ لیتے ہیں، حاضر سروس بارے یہ خدشہ ہوتا ہے کہ اس کی سروس متاثر ہو سکتی ہے۔ دوران سماعت سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم حیدر نے پیش ہو کر کہا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے اور بیان دیں گے تاہم انہیں کمیشن پر اعتراض ہے، کمیشن کے دو ارکان سابق سرکاری افسران ہیں۔ کیا ان میں اتنی جرات ہو گی کہ سابق وزیر اعظم، سابق آرمی چیف اورسابق چیف جسٹس کو طلب کر سکیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ابصار عالم سے مکالمہ کیا کہ اپنے خدشات کو ابھی محفوظ رکھیں،ابھی تو کمیشن قائم ہوا ہے ہم قیاس آرائیوں پر کوئی بات نہیں کریں گے، دنیا امید پر قائم ہے، ہو سکتا ہے دو ماہ بعد ان کے خدشات غلط ثابت ہوں اور ہو سکتا ہے درست ثابت ہوں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے ہم وفاقی حکومت کو کوئی ہدایت جاری نہیں کریں گے، یہ عوام کا حق ہے کہ ان کو سچ بتایا جائے، ہر ادارے کو اپنا کام خود کرنا چاہے، ہم سے وہ کام نہ کروائیں جو کھبی 184 کی شق 3 کے اختیار کا استعمال کر کے ماضی میں ہوتا رہا، ہو سکتا ہے ساٹھ دنوں میں آپ کی بات سچ نکل آئے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ابصار عالم نے سابق وزیر اعظم، سابق آرمی چیف اور سابق چیف جسٹس کو خطوط لکھے تھے، کمیشن ان کو بھی بلاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ امید پر دنیا قائم ہے، ہم پہلے سے ہی شک نہیں کر سکتے، پہلا بڑا قدم اٹھایا گیا ہے دیکھیں یہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ اگر سچ نکالنا چاہے تو تفتیشی افسر بھی نکال سکتا ہے اوراگر نہ نکالنا چاہے تو آئی جی پولیس بھی نہیں نکال سکتا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سماعت کا حکم لکھواتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن پیش کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹی او آرز میں شامل کیا جائے گا کہ نظر ثانی درخواستیں دائر کرنا حادثہ تھا یا کسی کی ہدایت، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹی او آرز ایک ہفتے میں شامل کر لیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اب کیس دو ماہ بعد سنیں گے، جس پر اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ سماعت 20 جنوری کے بعد کی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو استثنیٰ نہیں سب کو کمیشن بلا سکتا ہے، حکم نامے میں کہا گیا کہ کمیشن ابصار عالم کے نام لیے گئے افراد کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں