مرکزی بینک نے مالیاتی استحکام کیلئے پانچ سالہ سٹریٹجک پلان پیش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے مرکزی بنک نے اگلے پانچ سالوں کے لیے ایک سٹریٹجک پلان پیش کیاہے جس کا کلیدی مقصد ملکی مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

مرکزی بنک کا یہ منصوبہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع مشاورتی عمل کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ ایس بی پی ویژن 2028 کہلائے جانے والے اس اسٹریٹیجک پلان کو گذشتہ سال بنک کی خودمختاری یقینی بنانے کے حوالے سے منظور کئے گئے ترمیمی بل کے پس منظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ترمیمی بل، 2021 کی پچھلے سال منظوری دی تھی۔ یہ قانونی تحفظ قومی مالیاتی ریگولیٹر ،بنک دولت پاکستان کی مکمل خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ قرض کے معاہدے کی شرائط کے تحت پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا تھا۔

مرکزی بنک کے گورنر نے گذشتہ دنوں کراچی میں ویژن 2028 کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئےکہا کہ یہ منصوبہ قیمتوں اور مالیاتی استحکام کو فروغ دینے کا باعث بنے گا اور ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی میں کردار ادا کرے گا۔

قومی مالیاتی ریگولیٹر ،بنک دولت پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے مزید کہا کہ معیشت اور مالیاتی استحکام کو درپیش چیلنجز بشمول موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے سامنے آنے والی ڈیجیٹل ایجادات اور رکاوٹیں، اور سائبر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ ایس بی پی ویژن 2028 چھ اسٹریٹجک اہداف کے گرد گھومتا ہے جس میں افراط زر کو درمیانی مدت کے ہدف کی حد میں برقرار رکھنا، مالیاتی نظام کی کارکردگی، اثر انگیزی، شفافیت اور استحکام کو بڑھانا، مالیاتی خدمات تک جامع اور پائیدار رسائی کو فروغ ، شریعہ کے مطابق بینکاری نظام کی تشکیل، ایک جدید اور جامع ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے ایکو سسٹم کی تعمیر، اور سٹیٹ بینک کو ایک ہائی ٹیک صارفین پر مرتکز ادارے میں تبدیل کرناشامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک اہداف پانچ بنیادی موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں، جن میں اسٹریٹجک مواصلات، موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی جدت، تنوع اور شمولیت، اور پیداواری صلاحیت اور مسابقت شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا کیا ہے ۔ ان مسائل سے نکلنے کیلئے اسے آئی ایم ایف، چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک سے بیرونی مالی امداد پر انحصار کرنا پڑا ہے۔

مختلف مالی مسائل جیسے قومی کرنسی کی تیزی سے گراوٹ اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کے حل کر طرف سفر شروع کرنے کیلئے حکومت پاکستان نے جولائی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 3 بلین ڈالر کے ایک مختصر مدت کے قرض پروگرام حاصل کرنے میں کامیابی کی تھی جس سے ڈیفالٹ کے خطرات سے بنٹنے میں کامیابی ملی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں