متحدہ عرب امارات میں قائم فرم کی پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤس سے شراکت

سعودی عرب کو صحت کی نگہداشت کی فراہمی، سعودی مملکت میں صحت کی نگہداشت کے شعبے سے آغاز ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں قائم کثیر الشعبہ ورچوئل اثاثہ جات کی سرمایہ کاری کنسلٹنسی کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس ہفتے کے شروع میں مطلع کیا کہ ان کی کمپنی نے سعودی مارکیٹ کے لیے صحت کی نگہداشت کی خدمات درآمد کرنے کی غرض سے پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤس کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔

دبئی میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والی پی ایکس ڈی ایکس شرقِ اوسط اور شمالی افریقہ کے خطے میں صحت کی نگہداشت کی تربیت اور خدمات فراہم کرتی ہے جہاں یہ اپنے آپریشنز انجام دیتی ہے۔

پی ایکس ڈی ایکس اور گیبریل جابز کے بانی سی ای او ڈاکٹر ریحان التاجی نے پاکستانی کاروباری ادارے کا نام ظاہر کیے بغیر عرب نیوز کو بتایا۔ "ہم نے پاکستان میں تعاون شروع کیا اور ہمارے پاس ایک پروجیکٹ تھا اور ہمیں پاکستان میں ایک مقامی سافٹ ویئر ہاؤس کا تعاون حاصل ہوگا اور ہم ان کی خدمات سعودی عرب میں درآمد کریں گے۔"

یہ گفتگو ایک دو روزہ تقریب دی فیوچر سمٹ کے ساتویں ایڈیشن کے موقع پر ہوئی جس میں 15 نومبر کو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں مستقبل کے ماہرین، کاروباری ماہرین، اختراعی مفکرین اور سرمایہ کاروں کو مجتمع کیا گیا۔

انہوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیر بات کو جاری رکھا۔ "ہم نہ صرف ہسپتالوں کو خدمات فراہم کریں گے بلکہ اپنی خدمات کو دوسرے شعبوں تک بھی پھیلائیں گے۔ تاہم ہم صحت کی نگہداشت کے شعبے سے آغاز کریں گے۔"

تاجی جنہوں نے بتایا کہ وہ تیسری بار پاکستان کا دورہ کر رہے تھے، نے کہا کہ وہ پاکستانی سٹارٹ اپس کی کارکردگی سے بہت متاثر ہوئے جسے انہوں نے "ذہین اور اختراعی" قرار دیا۔

انہوں نے کہا، "ہم نے چند ماہ قبل ریاض میں ہونے والے لیپ [ٹیک کانفرنس] جیسے سابقہ ایونٹس میں سعودی اسٹارٹ اپ کے بعد پاکستانی اسٹارٹ اپس کو سیکنڈ رنر اپ کے طور پر آتے دیکھا۔ یہ زبردست ہیں۔"

پی ایکس ڈی ایکس اور گیبریل جابز کے سربراہ نے کہا کہ ویژن 2030 کے تحت پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ یہ پروگرام سعودی حکام نے مملکت کی معیشت کو متنوع بنانے اور تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے متعارف کروایا ہے۔

تاجی نے بات کو جاری رکھا، "پاکستانی سٹارٹ اپس سعودی عرب میں اپنے کاروبار کو بڑھا سکتے ہیں کیونکہ اب وہ [سعودی حکام] اس کی اجازت دے رہے ہیں۔ سعودی کاروباری اداروں کی مدد سے وہ وہاں اپنی کمپنیاں قائم کر سکتے ہیں جو 100 فیصد ان کے نام پر اور ان کی ملکیت میں ہوں گی۔" اور مزید کہا کہ مملکت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع زیادہ سے زیادہ اور آسان ہوتے جا رہے ہیں۔

وژن 2030 کے تحت سعودی حکومت دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، تفریح اور سیاحت جیسے عوامی خدمات کے شعبوں کو ترقی دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کویت کے عالمی ٹیک انٹرپرینیور، سرمایہ کار اور اختراع کی ماہر دانا ال سالم نے کہا کہ ویژن 2030 کے واضح مقاصد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو ممالک بہت سے سرمایہ کاروں کو راغب کر رہے ہیں ان کا ایک بہت واضح مقصد ہے جس میں وہ دنیا کو شریک کرتے ہیں۔ مثلاً سعودی عرب کا وژن 2030 انتہائی واضح ہے۔

ال سالم جنہوں نے سربراہی اجلاس میں بطور مقرر شرکت کی، کہا کہ پاکستان کو بیرونِ ملک اپنے امیج پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، "پاکستان کے بارے میں لوگوں کے نقطۂ نظر کو تبدیل کرنا بہت ضروری ہے۔"

دنیا بھر کے ممالک کو غذائی قلت کے جو خدشات درپیش ہیں، کویتی ماہر نے پاکستان کو ان سے نمٹنے کے لیے زرعی شعبے پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیائی قوم کو آبی وسائل سے نوازا گیا ہے جو اس کی مجموعی پیداوار بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں