مشہورکابلی پلاؤ سے پاکستانیوں کی تواضع کرنے والے افغان ماسٹر شیف مستقبل سے خوفزدہ

80 کے عشرے میں افغان پناہ گزینوں کی آمد نے کابلی پلاؤ کو پاکستانی کھانوں کا حصہ بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اس ماہ کے اوائل میں پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور کے ایک ہوٹل میں محمد خداداد ایک بڑی دیگ کے سامنے کھڑے تھے۔ چاول کے ایک خاص لذیذ پکوان کو ایک کے بعد دوسری پلیٹ میں ڈھیر کر کے وہ کھانے کے منتظر افراد کی ایک قطار کو باری باری دیتے جاتے تھے۔

اگرچہ 67 سالہ ماسٹر شیف نے تاریخی شہر میں نسل در نسل گاہکوں کی اپنے مشہور کابلی پلاؤ سے تواضع کی ہے لیکن ان دنوں وہ مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ گذشتہ ماہ جب پاکستان نے غیر دستاویزی غیر ملکیوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کیا تو 300,000 سے زائد افغان اپنے وطن واپس جانے پر مجبور ہو گئے جس سے بنیادی طور پر تقریباً 1.7 ملین افغان متاثر ہوئے۔ یہ افغان اپنے ملک پر 1979-1989 کے سوویت قبضے کے دوران اور اس کے بعد 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔

پاکستان میں لاکھوں افغانوں کی آمد کے ساتھ پاکستان بھر کے ریستوران کئی عشروں سے کابلی پلاؤ جیسے افغانی پکوان پیش کر رہے ہیں جس میں ابلے ہوئے چاولوں میں شیرے میں پکی باریک کٹی ہوئی گاجر، کشمش اور ہلکی آنچ پر پکے ہوئے بھینس کے گوشت کی بوٹیاں ملائی جاتی ہیں۔

پشاور میں مشہور بورڈ بازار یا 'منی کابل،' تقریباً 6,000 دکانوں کا مسکن ہے جو تقریباً سبھی افغان مہاجرین چلاتے ہیں جن میں کابل ہوٹل بھی شامل ہے جہاں خداداد بیس کے پیٹے میں پاکستان ہجرت کے بعد سے بطور باورچی کام کر رہے ہیں۔ 1980 کے عشرے کے اوائل میں قائم کیا گیا یہ ریستوراں اپنے کابلی پلاؤ کے لیے مشہور ہے۔

افغان صوبے قندوز سے تعلق رکھنے والے خداداد نے عرب نیوز کو بتایا، "مجھے پاکستان آئے ہوئے 40 سال ہو گئے ہیں اور میں یہاں ایک کیمپ اور [پشاور] شہر میں ایک پناہ گزین کے طور پر رہ رہا ہوں۔"

وہ 2005 میں افغانستان لوٹ گئے تھے لیکن ہوٹل کے مالک نے دو سال کے اندر انہیں واپس آنے پر مجبور کیا تاکہ وہ ہوٹل کے گاہکوں کے لیے اپنا خاص کابلی پلاؤ بناتے رہیں۔

"میں افغانستان واپس بھی گیا تھا لیکن لوگ مجھے یہ کہہ کر واپس آنے کا کہتے تھے کہ ہوٹل کا کاروبار خراب ہو گیا تھا۔"

برسوں بعد سینکڑوں گاہک اب بھی روزانہ خداداد کا کابلی پلاؤ خرید کر کھانے کے لیے آتے ہیں۔

گاہک حزب اللہ نے عرب نیوز کو بتایا، "میری بورڈ بازار میں 17 سال سے دکان ہے اور میں یہاں [اکثر] آتا ہوں۔ یہاں کئی ہوٹل ہیں لیکن میں یہاں اس لیے آتا ہوں کیونکہ ان کا پلاؤ مشہور ہے۔"

ڈش کی ایک طرز کو 'ازبکی پلاؤ' کہا جاتا ہے۔

دری زبان بولنے والے ازبک افغان خداداد نے وضاحت کی۔ "کابلی [پلاؤ] میں گاجر اور کشمش کو ایک مختلف برتن میں جبکہ ازبکی پلاؤ میں سب کچھ ایک ہی برتن میں پکایا جاتا ہے۔"

16 نومبر 2023 کی اس تصویر میں ایک مقامی ریسٹورنٹ کا عملہ پشاور میں گاہکوں کی خدمت کے لیے افغانستان کے مشہور "کابلی پلاؤ" کا تھال اٹھائے جا رہا ہے۔ (اے این فوٹو)
16 نومبر 2023 کی اس تصویر میں ایک مقامی ریسٹورنٹ کا عملہ پشاور میں گاہکوں کی خدمت کے لیے افغانستان کے مشہور "کابلی پلاؤ" کا تھال اٹھائے جا رہا ہے۔ (اے این فوٹو)

غذائی ناقدین کہتے ہیں کہ کابلی پلاؤ کی پاکستان میں آمد کے وقت کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن زیادہ تر اس بات سے متفق ہیں کہ یہ پاکستانی کھانوں کے مرکزی دھارے کا حصہ 1980 کے عشرے میں افغان مہاجرین کی آمد کے بعد بنا۔

خوراک کے موضوع پر لکھنے والی اور ایوارڈ یافتہ بلاگ پاکستان ایٹس کی بانی مریم جیلانی نے عرب نیوز کو بتایا۔ "ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی گہری اور مشترکہ تاریخ ہے۔ درحقیقت پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ رہنے والی بہت سی برادریوں نے محسوس کیا کہ وہ 1893 کی ڈیورنڈ لائن کے ذریعے مصنوعی طور پر تقسیم ہو گئے تھے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ یہاں کب آیا۔"

"ہوسکتا ہے یہ یہاں [1947 میں ہندوستان کی] تقسیم سے بہت پہلے سے ہو لیکن ہمیں معلوم ہے کہ اس نے افغان مہاجرین کی آمد کے بعد مرکزی دھارے میں اپنی پہچان بنائی بالخصوص 1990 کے عشرے کے دوران جب وہ بہت بڑی تعداد میں آنا شروع ہوئے۔ اس کے بعد سے یہ پاکستانی غذائی ثقافت کا ایک لازمی حصہ بن گیا ہے حتیٰ کہ کابلی پلاؤ پشاور میں پلاؤ کی غالب قسم ہے حالانکہ تکنیکی طور پر اس کا اس شہر سے تعلق نہیں ہے۔"

لیکن اب شہر میں پلاؤ کا مستقبل خداداد کے مستقبل کی طرح خطرے میں ہے۔

باورچی نے کہا کہ وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں لیکن ملک بدری کا خطرہ لاحق ہے کیونکہ وہ غیر رجسٹرڈ ہے اور ان کے پاس رجسٹریشن کے ثبوت (پی او آر) کی دستاویز یا افغان شہریت کارڈ (اے سی سی) نہیں ہے۔

خداداد نے کہا، "میں نے کوہاٹ، لاہور، ہنگو، سپینگھر (کوہاٹ میں ایک ریستوراں)، راولپنڈی اور پشاور میں کام کیا ہے۔ پاکستانیوں کے حجرے (مردان خانہ) میرے لیے کھلے ہیں، ہر کوئی مجھے اپنے ساتھ رات گذارنے کی پیشکش کرتا ہے۔ اگر میرے پاس پیسے کم ہوں تو وہ مجھے دے دیتے ہیں۔"

16 نومبر 2023 کی اس تصویر میں ایک شخص اپنے بچے کے ساتھ پشاور کے ایک ریسٹورنٹ میں افغانستان کا مقبول "کابلی پلاؤ" کھا رہا ہے۔ (اے این فوٹو)
16 نومبر 2023 کی اس تصویر میں ایک شخص اپنے بچے کے ساتھ پشاور کے ایک ریسٹورنٹ میں افغانستان کا مقبول "کابلی پلاؤ" کھا رہا ہے۔ (اے این فوٹو)

لیکن وہ مزید یہاں اپنے لیے جگہ محسوس نہیں کرتے۔

"میں اب تک یہاں کام کر رہا ہوں، باقی اللہ کی مرضی کہ میں واپس [افغانستان] چلا جاؤں یا یہیں رہوں۔"

صارفین نے بھی شہر سے افغانوں کے اخراج اور ان کے پسندیدہ شیف کے جانے کے امکان پر افسوس کا اظہار کیا۔

گاہک محمد شاکر اللہ نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ [پاکستان میں] لوگ یاد رکھیں گے کہ افغان یہاں کبھی رہتے تھے اور ہمیں اتنا خوبصورت کھانا پیش کیا کرتے تھے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں