صنعتی اداروں کی گیس کی قیمت میں اضافے کے خلاف ہفتے میں تین دن برآمدات روکنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں مقامی صنعت کاروں نے خبردار کیا کہ وہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجاََاگلے مہینے سے ہفتے میں تین بار "نو ایکسپورٹ ڈے" منائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے سے کاروبار کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا تھا تو یہ صنعتی شعبے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے قدرتی گیس کی قیمت میں ہوشربا اضافے کا اعلان کیا ہے ۔گیس مہنگی کرنے کا یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے 3 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط میں شامل تھا۔

اس اضافے کے ملک کے کاروبارپر اثرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایوان صنعت و تجارت کراچی (کے سی سی آئی) کے عہدیداروں کے ساتھ انڈسٹریل ٹاؤن اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ صنعت کے لیے گیس کے نرخ بڑھ کر تقریباً 2600 روپے فی یونٹ کی ناقابل برداشت سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اسے 1,350 روپے فی یونٹ تک کم کرے۔

جاوید بلوانی، وائس چیئرمین، بزنس مین گروپ نے کہا کہ نئے ٹیرف کا اطلاق دراصل ملک کے صنعتی شعبے کو خوفناک سزا دینے کا ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر حکومت تاجر برادری کے مطالبات پر توجہ دینے میں ناکام رہی تو وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ کاروباری برادری پورے شہر میں احتجاجی بینرز آویزاں کر کے اپنے احتجاج کو مزید تیز کرنے پر مجبور ہوگی اور ہفتے میں دو سے تین بار 'نو ایکسپورٹ ڈے' منایا جائے گا۔

ایوان صنعت و تجارت کراچی کے صدر افتخار احمد شیخ نے کہا کہ حکومت کو گیس کی فراہمی کی ترجیحات تبدیل کرنے کے بجائے اس کی سپلائی بڑھانے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت کی موجودہ پالیسی کے تحت صارفین کو گیس کی فراہمی کی ترجیحات میں تبدیلی اور ٹیرف کو ناقابل برداشت سطح تک بڑھانا خود ایک مسئلہ اور آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس کے نرخوں میں اضافہ صنعتوں کی بندش کا باعث بنے گاجس سے ملازمین کی چھانٹی شروع ہو جائے گی اور نتیجتاً امن و امان صورتحال سنگین ت، سٹریٹ کرائمز میں زبردست اضافہ اور مینوفیکچرنگ یونٹس کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ گیس کے نرخوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے، توانائی کے نگران وفاقی وزیر محمد علی نے کہا کہ تھا کہ ٹیرف میں اضافے سے تقریباً 400 ارب روپے (1.42 ارب ڈالر) کے نقصان سے بچا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمت میں حالیہ اضافے سے توانائی کے شعبے میں مزید نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں