فنی تربیت کی سعودی ایجنسی کو پاکستان میں تربیتی مراکز کھولنے کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان نے سعودی عرب کی انسانی وسائل کی ترقی کے ادارے تکامل (Takamol) کو ملک میں تربیتی مراکز کھولنے کی دعوت دی ہے۔

جواد سہراب ملک، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی نے کہا کہ حکومت مزید ہنر مند کارکنوں کو سعودی عرب بھیجنا چاہتی ہے اور اس حوالے سے انسانی وسائل کی ترقی کے سعودی ادارے تکامل کو دعوت دی ہے کہ وہ ملک میں تربیتی مراکز قائم کرے۔

تکامل ہولڈنگ سعودی حکومت کی کمپنی ہے۔ اپنے جدید تصور کے ساتھ، تکامول ہولڈنگ افراد اور انسانی وسائل کی استعداد کار بڑھانے کی خدمت پیش کرتی ہے۔ انسانی وسائل کی خدمات کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ پراجیکٹ مینجمنٹ، مشاورتی اور خریداری کی خدمات بھی پیش کرتا ہے۔

جواد سہراب ملک نے یہ پیشکش سعودی وزیر برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی ڈاکٹر عبداللہ ناصر ابوثنین اور سعودی نائب وزیر برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی عدنان عبداللہ النعیم سے گذشتہ دنوں ریاض میں ملاقات کے دوران کی۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وزارت نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم کے خصوصی مشیر کے مطابق پاکستانی کارکنوں کی مہارت کو ترقی دینا ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سعودی عرب میں مزید ہنر مند افرادی قوت بھیجنا چاہتی ہے اور انسانی سرمایہ کی ترقی کے سعودی ادارے تکامل کو پاکستان میں مزید ٹیسٹنگ اور تربیتی مراکز کھولنے کی دعوت دی ہے۔

انہوں نے تکامل کو پاکستان میں ایک خودمختار تربیتی اور انسانی وسائل کی تصدیق کرنے والی کمپنی کے طور پر کام کرنے کے لیے مکمل تعاون کی پیشکش بھی کی۔مزید یہ کہ سعودیٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ کارپوریشن بھی پاکستان میں تربیتی اقدامات کے لیے تعاون بڑھا سکتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کانیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن اور سعودی TVTC بہت جلد ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے۔

واضح رہے کہ سعودی حکام کے ساتھ یہ ملاقات پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (POEC) اور سعودی عرب کی معروف کنٹریکٹنگ کمپنی نِسما کے ساتھ افرادی قوت برآمد کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کے چند دن بعد ہوئی ہے۔ پی او ای سی اور نِسما اینڈ پارٹنرز کے درمیان ہونے والا تاریخی معاہدہ سعودی عرب کو ہنر مند پاکستانی لیبر کی برآمد کو ممکن بنائے گا۔

سعودی عرب میں ملازمت کے لیے مقیم پاکستانیوں کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے، اور پاکستان کو ترسیلات زر کھےحوالے سے سعودی عرب کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں